المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبَهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ
مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبَهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ
حدیث نمبر: 2467
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّياري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال، حدثنا علي بن الحَسَن بن شَقيق، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا ابن أبي ذئب، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن أيوب بن مِكْرَز، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، رجلٌ يُريدُ الجِهادَ في سبيل الله، وهو يبتغي عَرَضًا من عَرَض الدنيا، فقال رسول الله ﷺ:"لا أَجْرَ له"، فسأله الثانيةَ والثالثةَ، فقال رسول الله ﷺ:"لا أَجْرَ له" (2) .
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2436 - صحيح
هذا حديث صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2436 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ دنیاوی مال و متاع کی طلب بھی رکھتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے“، اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ بھی یہی سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہر بار) یہی فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2467]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وأيوب بن مِكْرز: هو أيوب بن عبد الله بن مِكْرَز العامري، وهو حسن الحديث، كما حققناه في "سنن أبي داود" (2516). وعبد الله بن علي الغزال - وإن كان مجهولًا - قد توبع، والصحيح في إسناد هذا الحديث زيادة ذكر القاسم بن عباس الهاشمي بين ابن أبي ذئب ...» [ترقيم الرساله 2467] [ترقيم الشركة 2450] [ترقيم العلميه 2436]
الحكم على الحديث: حديث حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث حسن، وأيوب بن مِكْرز: هو أيوب بن عبد الله بن مِكْرَز العامري، وهو حسن الحديث، كما حققناه في "سنن أبي داود" (2516). وعبد الله بن علي الغزال - وإن كان مجهولًا - قد توبع. ¤ ¤ والصحيح في إسناد هذا الحديث زيادة ذكر القاسم بن عباس الهاشمي بين ابن أبي ذئب - وهو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة - وبين بُكير بن عبد الله بن الأشج، لأنَّ أكثر أصحاب ابن المبارك قد ذكروه كحبّان بن موسى وأبي توبة الربيع بن نافع، وهو ثابت في "الجهاد" لابن المبارك أيضًا (227)، وكذلك هو ثابت في رواية غير ابن المبارك، كآدم بن أبي إياس ويزيد بن هارون وحُسين بن محمد المرُّوذي وغيرهم، ولعلَّ الوهم فيه هنا من عبد الله الغَزّال، والقاسم بن عباس هذا ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ایوب بن مکرز حسن الحدیث ہیں، اور اگرچہ عبداللہ بن علی الغزال مجہول ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔ اصح بات یہ ہے کہ ابن ابی ذئب اور بکیر کے درمیان "القاسم بن عباس" (جو کہ ثقہ ہیں) کا نام بھی موجود ہے جیسا کہ ابن المبارک کے کبار شاگردوں نے روایت کیا ہے۔
وسيأتي الحديث عند المصنف من وجه آخر برقم (3444) من طريق سعيد بن مسعود المروَزي، عن يزيد بن هارون، عن ابن أبي ذئب، عن بكير بن الأشج، لكن قال فيه: عن الوليد بن سَرْح عن أبي هريرة، كذا جاء هذا الإسناد أيضًا بإسقاط ذكر القاسم بن عباس من إسناده، وبذكر الوليد بن سرح بدل أيوب بن مكرز، ورواية الجمهور عن ابن أبي ذئب أولى بالقبول، ثم إنَّ أحمد بن حنبل قد رواه عن يزيد بن هارون بموافقة الجماعة، فروايته أَولى من رواية سعيد بن مسعود المروَزي، والله الموفق.
🔍 فنی نکتہ: حدیث نمبر (3444) میں یہی روایت یزید بن ہارون کے طریق سے آئے گی جس میں القاسم بن عباس کا نام ساقط ہے اور ایوب کے بجائے ولید بن سرح کا نام ہے، مگر جمہور کی روایت (جس میں قاسم بن عباس کا ذکر ہے) زیادہ معتبر ہے۔
وأخرجه أبو داود (2516) عن أبي توبة الربيع بن نافع، وابن حبان (4637) من طريق حبّان بن موسى، كلاهما عن عبد الله بن المبارك، عن ابن أبي ذئب، عن القاسم بن عباس، عن بكير بن الأشج، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابوداؤد (2516) اور ابن حبان نے اسے ابن المبارک کی مکمل سند (بشمول القاسم بن عباس) کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 13/ (7900) عن يزيد بن هارون، و 14/ (8793) عن حسين بن محمد المَرُّوذي، كلاهما عن ابن أبي ذئب، عن القاسم بن عباس، عن بكير بن الأشج، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے یزید بن ہارون اور حسین المروذی کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن أبي أمامة عند النسائي (4333)، وجوّد إسناده الحافظ في "الفتح" 9/ 55.
🧩 متابعات و شواہد: نسائی میں حضرت ابو امامہؓ سے بھی ایسی روایت موجود ہے جس کی سند کو حافظ ابن حجر نے "جید" قرار دیا ہے۔
وقال البيهقي في "السنن" 9/ 167 ما معناه: هذا يُحتمل أن يكون فيمن لا ينوي بغزوه إلّا الدنيا وما يرجع إلى أسبابها، دون من يبتغي الأجر ويرجو أن يصيب غنيمةً، وذكر حديث عبد الله بن حَوَالة: أنَّ رسول الله ﷺ بعثنا على أقدامنا حول المدينة لنَغنَم. وهو الحديث الآتي عند المصنف برقم (8514). وانظر "فتح الباري" 9/ 54 - 55 عند شرح (2810).
📚 مجموعی اصول: امام بیہقی فرماتے ہیں کہ (اجر ضائع ہونے کی) وعید اس شخص کے لیے ہے جس کی نیت صرف دنیا کمانا ہو، لیکن جو اجر کے ساتھ مالِ غنیمت کی امید رکھے وہ اس میں شامل نہیں، جیسا کہ حدیثِ ابن حوالہ میں آپ ﷺ نے مدینہ کے گرد لشکر کو مالِ غنیمت کے لیے بھیجا تھا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2467 in Urdu