المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. من ابتغى وجه الله وأطاع الإمام فإن نومه ونبهه أجر كله
مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبَهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ
حدیث نمبر: 2466
أخبرنا أبو أحمد بَكْر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا حَيْوة بن شُريح الحَضْرمي، حدثنا بَقيّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سعْد، عن خالد بن مَعْدانَ، عن أبي بَحْريّةَ، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"الغَزْوُ غَزْوان: فأما مَن ابتغَى وجهَ الله، وأطاعَ الإمامَ، وأنفقَ الكَريمةَ، وياسَرَ الشَّريكَ، واجتَنَبَ الفَسادَ، فإنَّ نَومَه ونُبْهَه أجرٌ كُلُّه، وأما مَن غزا فَخْرًا ورِياءً وسُمْعةً، وعَصَى الإمام، وأفْسَدَ في الأرض، فإنه لن يَرجِعَ بكَفَافٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2435 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2435 - على شرط مسلم
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاد دو طرح کے ہوتے ہیں جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر جہاد کرے، امام کی اطاعت کرے اور پسندیدہ چیز خرچ کرے اور اپنے ساتھی کو آسانی دے اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، جاگنا سب عبادت ہے لیکن جو شخص فخر اور دکھاوے کی خاطر جہاد کرتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے اور زمین میں فساد کرتا ہے تو وہ کپڑے کا ایک بٹن بھی نہیں حاصل کر سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2466]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقيّة بن الوليد، ثم إنه يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بسماعه في سائر طبقات الإسناد. أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس. وحيوة بن شريح الحضرمي غير حيوة بن شريح في إسناد حديث أبي أيوب الذي قبله، لأنَّ هذا الحضرمي حمصيٌّ، وذاك التجيبي هو مصري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "موقوفاً" حسن ہے مگر "مرفوعاً" اس کی سند بقیہ بن ولید کے ضعف اور ان کی "تدلیسِ تسویہ" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یہاں حیوہ بن شریح "الحضرمی" (حمصی) ہیں، جبکہ پچھلی روایت والے "التجیبی" (مصری) تھے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22042)، وأبو داود (2515) عن حيوة بن شريح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (2515) نے حیوہ بن شریح کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22042) عن يزيد بن عبد ربّه، والنسائي (4382) و (7770) و (8677) عن عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، كلاهما عن بقيّة، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے بقیہ بن ولید کے مختلف طرق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور (2323) من طريق جنادة بن أبي أمية، عن معاذ، موقوفًا، وإسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: سعید بن منصور کی جنادہ عن معاذؓ والی موقوف روایت کی سند حسن ہے۔
وأخرجه مالك في "موطئه" 2/ 466 - 467 عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن معاذ بن جبل موقوفًا كذلك، وهو منقطع، فإنَّ يحيى بن سعيد لم يدرك معاذًا.
🔍 فنی نکتہ: امام مالک نے اسے موطا میں یحییٰ بن سعید عن معاذؓ موقوفاً روایت کیا ہے، مگر یہ "منقطع" ہے کیونکہ یحییٰ بن سعید کا حضرت معاذؓ سے سماع نہیں۔
قوله: "أنفق الكريمة"، هي واحدة الكرائم، وهي النفائس التي تتعلق بها نفس مالكها.
📝 نوٹ / توضیح: "کریمہ" (جمع: کرائم) سے مراد وہ قیمتی چیزیں ہیں جو مالک کو بہت عزیز ہوں۔
وقوله: "ياسَرَ الشريك" معناه الأخذ باليسير في الأمر، والسهولة فيه مع الشريك والصاحب، والمعاونة لهما.
📝 نوٹ / توضیح: "یاسر الشریک" کا مطلب ہے اپنے ساتھی یا شریک کے ساتھ معاملات میں نرمی اور آسانی پیدا کرنا اور اس کی مدد کرنا۔