المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. ما من عبد ينفق من كل مال له زوجين فى سبيل الله إلا استقبلته حجبة الجنة
مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
حدیث نمبر: 2470
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أبي العَوّام الرِّيَاحي، حدثنا قُريش بن أنس، حدثنا أشعث بن عبد الملك، عن الحسن. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى معاذ بن المثنى العَنْبَري، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا يونس، عن الحسن، عن صَعْصَعة بن معاوية، قال: قلتُ لأبي ذَرٍّ: ما مالُكَ؟ قال: لي عَمَلي، لي عَمَلي، قال: قلتُ: حَدِّثني، قال: نعم، قال النبي ﷺ:"ما من عبدٍ يُنفِقُ من كلِّ مالٍ له زَوجَين في سبيلِ الله، إلا استَقبَلَتْه حَجَبةُ الجنةِ، كلُّهم يَدعُوه إلى ما عندَه". قال: قلتُ: وكيف ذاك؟ قال: إن كان رِجالًا فرجُلَين، وإن كان إبلًا فبَعِيرَين، وإن كان بقرًا فبقرتَين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وصَعْصَعة بن معاوية من مَفَاخِر العرب، وقد رواه أصحابُ الحسن عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2439 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وصَعْصَعة بن معاوية من مَفَاخِر العرب، وقد رواه أصحابُ الحسن عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2439 - صحيح
سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: تیرا مال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے (صعصعہ) فرماتے ہیں، میں نے کہا: اس کے متعلق آپ مجھے کوئی حدیث سنا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال سے جوڑا خرچ کرے، جنت کے دربان اس کا استقبال کرتے ہیں اور وہ تمام اس کو اپنے پاس موجود نعمتوں کی طرف بلاتے ہیں، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کیسے ہو گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ آدمی ہوں تو دو آدمی اور اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ اور اگر گائے ہو تو دو گائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور صعصعہ بن معاویہ عرب کے قابل فخر لوگوں میں سے ہیں، حسن کے شاگردوں نے بھی ان سے احادیث روایت کی ہیں۔ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ یحیی بن معین کا قول نقل کرتے ہیں کہ صعصعہ بن معاویہ ابوذر رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں اور وہ جزی بن معاویہ کے بھائی ہیں۔ میں نے ابوحفص عمر بن جعفر البصری الحافظ کو کئی مرتبہ یہ کہتے سنا ہے کہ بصریوں کے لیے حسن کی صعصعہ سے روایت والی سند سے زیادہ احسن کوئی سند نہیں ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے طرق (بہت محنت سے) ڈھونڈ کر جمع کیے، جب ہم دوبارہ بغداد میں اکٹھے ہوئے تو میں نے دوبارہ اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے وہ فائدہ دیا جس سے میں ابھی تک محروم تھا، میں نے حاکم ابواحمد محافظ رحمۃ اللہ علیہ کو ایک دن یہ قصہ سنایا اور اس سلسلہ میں ان سے گفتگو کی تو انہوں نے مجھے کہا: جو شخص یہ حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ صعصعہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے راوی کے حوالے سے بیان کرے تو مجھے اس کا پتہ نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2470 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يونس: هو ابن عُبيد، والحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ یونس سے مراد ابن عبید اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں۔
وأخرجه النسائي (4379) عن إسماعيل بن مسعود، عن بشر بن المفضَّل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4379) نے بشر بن مفضل کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21341) عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن يونس بن عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (21341) نے اسے اسماعیل ابن علیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21358) و (21413)، وابن حبان (4645) من طريق قرة بن خالد، وابن حبان (4643) و (4644) من طريق جرير بن حازم، وأحمد (21453) من طريق هشام بن حسان، ثلاثتهم عن الحسن البصري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے قرہ بن خالد، جریر بن حازم اور ہشام بن حسان کے طرق سے (حسن بصری سے) روایت کیا ہے۔
(2) اختلف في ضبط هذا الاسم اختلافًا كثيرًا، كما بيّنه مجدُ الدين بن الأثير في "جامع الأصول" في قسم التراجم ص 266، وصحح أنه جَزْء.
🔍 فنی نکتہ: اس نام کے تلفظ میں بہت اختلاف ہے، علامہ ابن الاثیر نے "جامع الاصول" میں تحقیق کے بعد اسے "جَزء" (جیم کے فتحہ اور زاء کے سکون کے ساتھ) صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 2470M1
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّورِي يقول: سمعتُ يحيى بن مَعين يقول: صعصعةُ بن معاوية هو صاحب أبي ذَرٍّ، وهو أخو جَزِي (2) بن معاوية.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470M1]
حدیث نمبر: 2470M2
سمعتُ أبا حفص عمر بن جعفر البصري الحافظ غيرَ مرّةٍ يقول: ليس للبصريين بابٌ أحسنَ من طُرقِ حديثِ الحسن عن صَعْصَعة. قال الحاكم: فطلبتُ طُرقَ هذا الحديث وجمعتُه، فلما اجتمعنا في الكَرَّة الثانية ببغداد ذاكرتُه به، وأفادَني فيه ما لم يكن عندي، فحدَّثْتُ الحاكمَ أبا أحمد الحافظ ﵀ يومًا بهذه القصة، وذاكَرْتُه به، فقال لي: من حدَّث بهذا الحديث عن أبي ذرٍّ غيرُ صعصعةَ؟ فلم أحفظ.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2470M2]