🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. فضيلة إعانة المجاهد والغارم والمكاتب
مجاہد، مقروض اور مکاتب کی مدد کرنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2480
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي عمرو الشَّيباني، عن أبي مسعود، قال: جاء رجلٌ بناقةٍ مَخْطُومة، فقال: هذا في سبيل الله، فقال رسول الله ﷺ:"لك بها يومَ القيامةِ سبعُ مئة ناقةٍ، كلُّها مَخْطُومة" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2449 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک شخص نکیل لگائی ہوئی اونٹنی لایا اور کہنے لگا: یہ اللہ کی راہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے اس ایک (اونٹنی) کے بدلے سات سو اونٹنیاں دے گا، تمام کی تمام نکیل زدہ ہوں گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2480]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2480 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو عمرو الشَّيباني: هو سعد بن إياس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعمرو الشیبانی سے مراد سعد بن ایاس ہیں۔
وأخرجه مسلم (1892)، وابن حبان (4649) من طريقين عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم اور ابن حبان نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17094) و 37/ (22357) و (22358)، ومسلم (1892)، والنسائي (4381)، وابن حبان (4650) من طريقين عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن حبان نے امام اعمش کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
قوله: "مخطومة" أي: لها خَطْم تُقاد به، كالرسَن للدابة، فيتمكن صاحبها منها ولا تفرُّ منه.
📝 لغوی تشریح: "مخطومہ" سے مراد وہ اونٹنی ہے جس کی نکیل (مہار) لگی ہو تاکہ اسے قابو کیا جا سکے۔