🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. من رمى العدو بسهم فبلغ سهمه أخطأ أو أصاب فعدل رقبة
جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ تیر پہنچ گیا، چاہے خطا کرے یا لگ جائے، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2500
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن منصور الحارِثي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن أبي نَجيح السُّلَمي - وهو عمرو بن عَبَسَة - قال: حاصَرْنا قصرَ الطائف، فسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رَمَى بسهمٍ في سبيلِ الله، فله عَدْلُ محرَّرٍ"، قال: فبَلَّغتُ يومئذ ستةَ عشرَ سهمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن عمرو بن عَبَسة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2469 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے طائف کے محل کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا، اس کو غلام آزاد کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ (عمرو بن عبسہ) فرماتے ہیں: اس دن میں نے سولہ تیر پھینکے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ عمروہ بن عبسہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2500]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2500 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (1638) عن محمد بن بشار، عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد. وقال: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی (1638) نے اسے روایت کر کے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه ضمن حديث مطوَّل أحمد 28/ (17022) و 32/ (19428)، والنسائي (1336) من طرق عن هشام، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17020)، والنسائي (4335) و (4338) من طريق شُرَحبيل بن السِّمْط، وأحمد 28/ (17023) و 32/ (19438) من طريق شهر بن حوشب، عن أبي ظَبْية الكَلاعي، وأحمد 28/ (17024) من طريق رجل، عن عبد الرحمن بن عُسَيلة الصُّنابحي، و 32/ (19437) من طريق الفرج بن فضالة، عن لقمان بن عامر، عن أبي أُمامة، أربعتهم عن عمرو بن عَبَسةَ. وهذه الأسانيد الأربعة فيها مقال كلها، وزاد بعضهم في روايته: "بسهم فأصاب أو أخطأ"، وزاد بعضهم: "رقبة من ولد إسماعيل"، ولا تصح هذه الزيادة الأخيرة.
🔍 فنی نکتہ: عمرو بن عبسہؓ سے مروی دیگر چار سندوں میں کلام ہے، اور بعض میں "اسماعیلؑ کی اولاد سے غلام آزاد کرنے" کا جو اضافہ ہے وہ صحیح نہیں ہے۔
وسيتكرر ضمن حديث مطول برقم (4419).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (4419) پر طویل حدیث میں دوبارہ آئے گی۔
وسيأتي بعده من طريق القاسم أبي عبد الرحمن عن عمرو بن عَبَسة.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت القاسم عن عمرو بن عبسہ کے طریق سے آئے گی۔
وبرقم (2592) من طريق أبي قدامة ومحمد بن المثنى عن معاذ بن هشام.
📝 نوٹ / توضیح: نمبر (2592) پر بھی اس کا ایک اور طریق موجود ہے۔
(1) في المطبوع: "أبي"، بدل "مولى"، وكلاهما صحيح، فكنيته أبو عبد الرحمن، وهو أيضًا مولى عبد الرحمن بن يزيد بن معاوية، كما قُيد في بعض الأحاديث، كحديث أبي أيوب عند النسائي (9768) في ثواب من قال عشر مرات: لا إله إلّا الله وحده لا شريك له، الحديث، وقيل في ولائه غير ذلك.
🔍 فنی نکتہ: "ابی عبدالرحمن" اور "مولیٰ عبدالرحمن" دونوں ایک ہی شخصیت کے لیے درست ہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والقاسم مولى عبد الرحمن - وهو ابن عبد الرحمن الدمشقي - وإن اختلف في سماعه من عمرو بن عَبَسة، قد توبع كما في الطريق السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں۔ قاسم کے حضرت عمرو بن عبسہؓ سے سماع میں اختلاف ہے، مگر متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2812) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔