المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. الدعاء إذا نزل فى السفر فى مقام
سفر میں کسی جگہ ٹھہرنے کے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 2518
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي بحِمْص، حدثنا أبو المغيرة عبد القُدّوس بن الحجّاج، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُريح بن عُبيد الحَضْرمي، أنه سمع الزُّبَير بن الوليد يحدّث عن عبد الله ابن عمر بن الخطاب، قال: كان رسول الله ﷺ إذا غزا أو سافَر فأدركَه الليلُ، قال:"يا أرضُ، ربِّي وربُّكِ الله، أعوذُ بالله من شَرِّك، وشرِّ ما فيك، وشرِّ ما خُلِقَ فيك، وشرِّ ما دَبَّ عليك، أعوذُ بالله من شرِّ كل أسدٍ وأسوَدَ وحيّةٍ وعقرب، ومن شرِّ ساكنِ البلد، ومن شرِّ والدٍ وما وَلَدَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2487 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2487 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی غزوے یا سفر کے دوران رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگتے ” اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے اور جو کچھ تیرے اندر ہے، اس کے شر سے اور جو کچھ تیرے اندر پیدا کیا گیا، اس کے شر سے اور جو کچھ تیرے اوپر چلتا ہے، اس کے شر سے، اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں ہر درندے اور سانپ، شیر اور بچھو کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اس شہر کے رہنے والوں کے شر سے اور جننے والے اور جو کچھ جنا گیا، اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2518]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2518 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد، وحسَّن الحافظُ ابن حجر إسنادَه في "نتائج الأفكار" كما في الفتوحات الربانية لابن علّان 5/ 164.
⚖️ درجۂ حدیث: زبیر بن ولید کی وجہ سے سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ حافظ ابن حجر نے 'نتائج الافکار' میں اس کی تحسین کی ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1654) من طريق بكر بن سهل الدِّمياطي عن أبي المغيرة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ نمبر (1654) پر بکر بن سہل الدمیاطی عن ابی المغیرہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔