🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. خير الجيران خيرهم لجاره
بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيوة بن شُريح، حدثني شُرَحْبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ، قال:"خيرُ الأصحابِ عند الله خيرُهم لصاحبه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بارگاہ میں بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوستوں کے لیے اچھا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں وہ پڑوسی سب سے اچھا ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2521]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2521 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي من أجل شرحبيل بن شريك، فهو صدوق لا بأس به. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعافِري.
⚖️ درجۂ حدیث: شرحبیل بن شریک کی وجہ سے سند قوی ہے، وہ صدوق ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان، اور ابو عبد الرحمن الحبلی سے مراد عبد اللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1944)، وابن حبان (518) و (519) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1944) اور ابن حبان نے ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔
وسيتكرر برقم (7482)، وتقدَّم برقم (1637) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ عن حيوة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ دوبارہ نمبر (7482) پر آئے گی اور نمبر (1637) پر گزر چکی ہے۔