🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. سَبَبُ نُزُولِ آيَةِ " فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ "
آیت «فمن كان يرجو لقاء ربه» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الله بن الحارث الجُمحي المكي، حدثنا سهيل ابن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أولُ الناسِ يدخُلُ النارَ يوم القيامة ثلاثةُ نَفَرٍ، يُؤتَى بالرجل -أو قال: بأحدهم- فيقولُ: ربِّ عَلَّمْتَني الكتابَ، فقرأتُه آناءَ الليلِ والنهارِ، رجاءَ ثوابِك، فيقال: كذبتَ، إنما كنتَ تُصلي ليُقال: إنك قارئٌ مُصَلٍّ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يُؤتَى بآخرَ، فيقول: ربِّ رَزَقْتَني مالًا فوَصَلتُ به، الرَّحِمَ وتَصدَّقتُ به على المساكين، وحَمَلتُ ابنَ السَّبيلِ، رجاءَ ثوابِك وجنّتِك، فيُقال: كذبتَ، إنما كنتَ تَتَصدّق وتَصِلُ ليقال: إنه سَمْحٌ جَوادٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث، فيقول: ربِّ خرجتُ في سَبيلِكَ، فقاتَلْتُ فيك حتى قُتِلتُ مُقبِلًا غيرَ مُدبر، رجاءَ ثوابك وجنّتِك، فيُقال: كذبت، إنما كنتَ تقاتلُ ليقال: إنك جريءٌ شجاعٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا فیصلہ ہو گا (جو آگ میں جائیں گے)، ایک شخص کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے کتاب (قرآن) کی تعلیم دی، میں نے تیرے ثواب کی امید میں اسے دن رات پڑھا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے پڑھا تھا تاکہ کہا جائے کہ یہ بڑا قاری ہے، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر دوسرے کو لایا جائے گا تو وہ کہے گا: اے رب! تو نے مجھے مال عطا کیا، میں نے تیرے ثواب اور جنت کی امید میں اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور صدقہ کیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے کیا تاکہ کہا جائے کہ یہ بڑا سخی ہے، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر تیسرے کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے رب! میں تیری راہ میں نکلا اور تیرے ثواب کی امید میں قتال کیا یہاں تک کہ میں پیٹھ پھیرے بغیر (دشمن کے) سامنے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے قتال کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ یہ بڑا نڈر اور بہادر ہے، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هشام بن عمار وعبد الله بن الحارث، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن أبي هريرة بألفاظ متقاربة، كما تقدَّم التنبيه عليه برقم (2556).» [ترقيم الرساله 2560] [ترقيم الشركة 2543] [ترقيم العلميه 2528]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هشام بن عمار وعبد الله بن الحارث، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن أبي هريرة بألفاظ متقاربة، كما تقدَّم التنبيه عليه برقم (2556).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند ہشام بن عمار اور عبداللہ بن الحارث کی وجہ سے "حسن" کے درجے میں ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف طرق (سندوں) کے ساتھ ملتے جلتے الفاظ میں مروی ہے، جیسا کہ پہلے نمبر (2556) کے تحت اس پر تنبیہ کی جا چکی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: حوالہ نمبر (2556)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2560 in Urdu