المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
80. سبب نزول آية " فمن كان يرجوا لقاء ربه "
آیت «فمن كان يرجو لقاء ربه» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2560
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الله بن الحارث الجُمحي المكي، حدثنا سهيل ابن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أولُ الناسِ يدخُلُ النارَ يوم القيامة ثلاثةُ نَفَرٍ، يُؤتَى بالرجل -أو قال: بأحدهم- فيقولُ: ربِّ عَلَّمْتَني الكتابَ، فقرأتُه آناءَ الليلِ والنهارِ، رجاءَ ثوابِك، فيقال: كذبتَ، إنما كنتَ تُصلي ليُقال: إنك قارئٌ مُصَلٍّ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يُؤتَى بآخرَ، فيقول: ربِّ رَزَقْتَني مالًا فوَصَلتُ به، الرَّحِمَ وتَصدَّقتُ به على المساكين، وحَمَلتُ ابنَ السَّبيلِ، رجاءَ ثوابِك وجنّتِك، فيُقال: كذبتَ، إنما كنتَ تَتَصدّق وتَصِلُ ليقال: إنه سَمْحٌ جَوادٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث، فيقول: ربِّ خرجتُ في سَبيلِكَ، فقاتَلْتُ فيك حتى قُتِلتُ مُقبِلًا غيرَ مُدبر، رجاءَ ثوابك وجنّتِك، فيُقال: كذبت، إنما كنتَ تقاتلُ ليقال: إنك جريءٌ شجاعٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، ان میں سے ایک کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! تو نے مجھے قرآن سکھایا، میں دن رات تیری بارگاہ سے ثواب کی امید پر اس کی تلاوت کرتا رہا، اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو تو اس لیے پڑھتا تھا تاکہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ یہ قرآن پڑھنے والا قاری ہے۔ سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ پھر دوسرے کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! تو نے مجھے مال عطا کیا تھا، میں نے اس کے ساتھ صلہ رحمی کی، مسکینوں پر صدقہ کرتا رہا اور مسافروں پر خرچ کرتا رہا، صرف ثواب اور جنت کی نیت سے۔ اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو تو اپنے آپ کو سخی کہلوانے کے لیے صدقہ کیا کرتا تھا اور صلہ رحمی کرتا تھا، سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ پھر تیسرے آدمی کو لایا جائے گا، وہ کہے گا: اے اللہ! میں تیری راہ میں نکلا اور تیری رضا کی خاطر لڑتا رہا یہاں تک کہ مجھے لڑتے ہوئے قتل کر دیا گیا، پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے میں نہیں مارا گیا ہوں، صرف تیرے ثواب اور جنت کی امید میں۔ اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے، تُو نے تو اس لیے جنگ لڑی تھی تاکہ تجھے دلیر اور بہادر کہا جائے، سو وہ کہہ لیا گیا، اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس انداز میں اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2560]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هشام بن عمار وعبد الله بن الحارث، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن أبي هريرة بألفاظ متقاربة، كما تقدَّم التنبيه عليه برقم (2556).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند ہشام بن عمار اور عبداللہ بن الحارث کی وجہ سے "حسن" کے درجے میں ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختلف طرق (سندوں) کے ساتھ ملتے جلتے الفاظ میں مروی ہے، جیسا کہ پہلے نمبر (2556) کے تحت اس پر تنبیہ کی جا چکی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: حوالہ نمبر (2556)۔