🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. نهي التفريق فى المنزل إذا نزلوا
کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2574
أخبرني أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بَمْرو، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب، حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1) ، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضرِّب، عن فُرات بن حيّان: [أنَّ رسول الله ﷺ أمر بقتلِه، وكان عَينًا لأبي سفيان، وحَليفًا لرجلٍ من الأنصار، فقال: إني مُسلم، فقال رسول الله ﷺ] (2) :"إن منكم رجالًا نَكِلهم إلى إيمانهم، منهم فُرات بن حيّان" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2542 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دے دیا جبکہ وہ ابوسفیان کا جاسوس تھا۔ وہ انصار کی ایک مجلس سے گزرا تو کہنے لگا: میں مسلمان ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو پکڑ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور آپ کو بتایا کہ یہ شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہم نے انہی کے ایمان پر چھوڑ رکھا ہے۔ فرات بن حیان بھی ان میں سے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2574]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2574 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حبيب، وجاء على الصواب في رواية البيهقي 8/ 197 عن أبي عبد الله الحاكم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "حبیب" میں بدل گیا ہے، جبکہ امام بیہقی (8/ 197) کی روایت میں اسے درست نقل کیا گیا ہے۔
(2) ما بين المعقوفين وقع مكانه بياض في النسخ الخطية، وأثبتناه من رواية البيهقي 8/ 197 أبي عبد الله الحاكم، حيث نصَّ على أنَّ هذا لفظه. وهو بنحوه فيما سيأتي برقم (8292) عن أبي بكر بن إسحاق وابن حَمْشَاذَ عن محمد بن غالب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: بریکٹ کے درمیان والا حصہ اصل نسخوں میں سادہ (خالی) تھا، جسے امام بیہقی کی روایت (8/ 197) سے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ روایت آگے نمبر (8292) پر بھی آئے گی۔
(3) إسناده قوي من أجل حارثة بن مضرب سفيان بن سعيد هو الثَّوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حارثہ بن مضرب کی وجہ سے "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان بن سعید سے مراد امام ثوری ہیں اور ابو اسحاق سے مراد عمرو بن عبداللہ سبیعی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2652) عن محمد بن بشار، عن محمد بن محبَّب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2652) بحوالہ محمد بن بشار۔
وأخرجه أحمد 31/ (18965) من طريق بشر بن السري، عن سفيان الثَّوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (31/ 18965) عن بشر بن السری عن سفیان ثوری۔
وأخرجه بنحوه أحمد أيضًا 27/ (16593) و 38 (23182) من طريق إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مضرب عن بعض أصحاب النبي ﷺ، أنَّ رسول الله ﷺ قال لأصحابه: "إنَّ منكم رجالًا لا أعطيهم شيئًا أكلهم منهم فرات بن حيان، قال: من بني عجل.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت امام احمد (27/ 16593 اور 38/ 23182) نے اسرائیل عن ابی اسحاق کے طریق سے نقل کی ہے، جس میں فرات بن حیان (بنی عجل سے) کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں (مال) نہیں دیتا بلکہ انہیں (ان کے ایمان کے) سپرد کرتا ہوں"۔