🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. قصة شهادة حمزة والصلاة عليه والشهداء كلهم وإحياء والد جابر
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت، ان پر اور دیگر شہداء پر نماز اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد کے زندہ کیے جانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن ابن عَقيل، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، فقال رجل: رأيتُه عند تلك الشجّرات، وهو يقول: أنا أسدُ الله وأسدُ رسوله، اللهم أبرأُ إليك ممّا جاء به هؤلاء؛ أبو سفيان وأصحابه، وأعتذرُ إليك ممّا صنع هؤلاء بانهزامِهم، فحَنَا رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جنْبَه بكى، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال:"ألا كُفِّنَ"، فقام رجل من الأنصار فرمى بثوب عليه، ثم قام آخرُ من الأنصار فرمى بثوبٍ عليه، فقال:"يا جابر"، هذا الثوبُ لأبيك، وهذا لعمِّي حمزة"، ثم جيء بحمزة فصَلَّى عليه، ثم يُجاء بالشهداء فتُوضع إلى جانب حمزة، فيصلِّي عليهم، ثم تُرفَع ويُترك حمزة، حتى صلِّى على الشهداء كلهم. قال: فرجعتُ وأنا مُثقَلٌ قد تَرَك أبي عليَّ دَينًا وعيالًا، فلما كان عندَ الليل أرسل إلىَّ رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا جابر، إنَّ الله ﵎ أحيا أباك وكلَّمه" قلت: وكلّمه كلامًا! قال:"قال له: تَمَنَّ، فقال: أتمنَّى أن تَرُدَّ روحي وتُنشئ خَلْقى كما كان، وتَرْجِعَني إلى نبيّك، فأقاتلَ في سبيلك فأُقتلَ مرةً أخرى، قال: إني قضيتُ أنهم لا يَرجِعون". قال: وقال ﷺ:"سيدُ الشهداءِ عند الله يومَ القيامة حمزةُ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2557 - أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (جنگ احد سے) واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش نہیں مل رہی تھی، تو ایک شخص بولا: میں نے ان کو ان جھاڑیوں کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے: میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شیر ہوں۔ اے اللہ! میں ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی کارستانیوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اور ان مسلمانوں نے جو راہِ فرار اختیار کی ہے، میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب چل پڑے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جسم کو دیکھا تو رو پڑے اور جب ان کے ناک اور کان کٹے ہوئے دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سسکیاں لے کر رونے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کوئی کفن ہے؟ تو ایک انصاری صحابی نے ایک کپڑا پیش کیا پھر ایک دوسرے صحابی نے بھی ایک کپڑا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! یہ کپڑا تیرے والد کے لیے ہے اور یہ میرے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔ پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی پھر دیگر شہداء کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر نماز جنازہ پڑھی گئی پھر دیگر شہداء کے جنازوں کو اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو وہیں چھوڑ دیا گیا پھر (اور شہداء کو ان کے پہلو میں رکھ کر جنازہ پڑھا گیا اور اٹھا لیا گیا، اسی طرح سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کے ہمراہ) تمام شہداء کا جنازہ پڑھا گیا۔ میں وہاں سے بہت بوجھ لے کر واپس لوٹا تھا کیونکہ میرے والد نے میرے ذمہ (بہت سارا) قرضہ اور بچے چھوڑے تھے، جب رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھے اپنے پاس بلوایا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیرے والد کو زندہ کیا اور اس کے ساتھ کلام کیا، میں نے (بڑی حیرانگی سے) پوچھا: اور اللہ نے ان کے ساتھ کلام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیرے والد سے کہا: تو کوئی تمنا کر، اس نے کہا: میں یہ تمنا کرتا ہوں کہ تو میری روح کو لوٹا دے اور مجھے پہلے ہی کی طرح پیدا کر اور مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دے پھر میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور مجھے دوبارہ پھر قتل کر دیا جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ ان کو دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا (جابر) فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شہیدوں کے سردار سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2589]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2589 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي حماد الحنفي - واسمه المفضَّل بن صدقة - وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث، وابن عقيل - وهو عبد الله بن محمد بن عَقيل - يُحسَّن حديثه في المتابعات والشواهد، وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث أيضًا، ولكن انفرد هو أو أبو حماد الحنفي بقصة الصلاة على شهداء أحد، والصحيح عن جابر أنه لم يُصَلِّ عليهم، كما سيأتي بيانه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوحماد الحنفی کے ضعف کی وجہ سے۔ اگرچہ ابن عقیل کی حدیث متابعات میں حسن ہوتی ہے، مگر شہدائے احد پر نمازِ جنازہ پڑھنے کی بات ان کا انفراد ہے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ ان پر نماز نہیں پڑھی گئی تھی۔
وأخرج قصة تكفين حمزة أحمد 22 / (14521)، والترمذي (997) من طريق زائدة بن قدامة، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ كفَّن حمزة بن عبد المطلب في نَمِرةٍ في ثوب واحد.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کا قصہ امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک دھاری دار چادر (نمرہ) میں کفنایا جو کہ صرف ایک ہی کپڑا تھا۔
والصحيح في تكفين حمزة أن أخته صفية هي من جلبت له ثوبين لكفنه، فكُفِّن بأحدهما كما رواه الزُّبَير بن العوام عند أحمد 3 / (1418) وغيره، وكما رواه ابن عباس عند عبد الرزاق (6194)، وإسناداهما حسنان.
📌 اہم نکتہ: صحیح روایت کے مطابق حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا دو چادریں لائی تھیں، جن میں سے ایک میں حضرت حمزہ کو کفنایا گیا۔ یہ سند حسن ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: مسند احمد (3/ 1418) اور مصنف عبدالرزاق (6194)۔
وستأتي قصة استشهاد حمزة وحدها برقم (4961) من طريق عُبيد بن شريك عن أبي صالح محبوب بن موسى.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت حمزہ کی شہادت کا مکمل واقعہ علیحدہ طور پر آگے حدیث نمبر (4961) میں عبید بن شریک کی سند سے آئے گا۔
وقصة تكليم الله لوالد جابر أخرجها أيضًا أحمد 23/ (14881) من طريق محمد بن علي السلمي، عن ابن عقيل، عن جابر. وستأتي بنحوها برقم (4976) من طريق طلحة بن خراش عن جابر.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت جابر کے والد سے اللہ کے کلام کرنے کا واقعہ امام احمد نے (23/ 14881) میں روایت کیا ہے اور یہ آگے نمبر (4976) پر بھی آئے گا۔
وسيأتي ذكر استشهاد عبد الله بن عمرو بن حرام والد جابر بأُحد برقم (4972) من طريق وهب ابن كيسان عن جابر، وبرقم (4974) و (4975) من طريق أبي نضرة عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام (جابر کے والد) کی غزوہ احد میں شہادت کا تذکرہ آگے حدیث نمبر (4972، 4974، 4975) میں تفصیلاً آئے گا۔
وأخرج قصة استشهاده أيضًا البخاري (2781)، والنسائي (6430) من طريق الشعبي، وأحمد 23/ (15206)، والنسائي (6433) من طريق عمار بن أبي عمار، والبخاري (1293)، ومسلم (2471)، والنسائي (1984)، وابن حبان (7021) من طريق محمد بن المنكدر، ثلاثتهم عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: شہادت کا یہ واقعہ بخاری، مسلم، نسائی، احمد اور ابن حبان نے امام شعبی، عمار بن ابی عمار اور محمد بن منکدر کے واسطوں سے حضرت جابر سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر بكائه ﷺ على حمزة وشهيقه برقم (4954) من طريق عبد الله بن نمير عن أبي حماد.
🧾 تفصیلِ روایت: نبی ﷺ کا حضرت حمزہ پر رونا اور آواز کے ساتھ گریہ کرنا (سسکیاں بھرنا) آگے نمبر (4954) کے تحت آئے گا۔
وستأتي قصة ترك عبد الله بن عمرو بن حرام دَينًا برقم (7273) من طريق نُبيح العَنَزي عن جابر. وأخرجها كذلك أحمد 23 / (15005) من طريق أبي المتوكل الناجي، والبخاري (2709) والنسائي (6434)، وابن حبان (6536) من طريق وهب بن كيسان وأحمد 23/ (14935)، والبخاري (2127) و (2781) و (3580) و (4053)، والنسائي (6430 - 6432) من طريق عامر الشعبي، والبخاري (6250)، وأبو داود (5187)، والترمذي (2711) من طريق محمد بن المنكدر، وابن ماجه (190)، والترمذي (3010) من طريق طلحة بن خراش، كلهم عن جابر بن عبد الله. ¤ ¤ وأخرج قصة إحياء الله تعالى لعبد الله بن عمرو بن حرام وتكليمه له: أحمد 23/ (14881) من طريق محمد بن علي بن ربيعة السلمي، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، به.
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عبداللہ بن عمرو کے قرض چھوڑنے کا قصہ نمبر (7273) پر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا انہیں زندہ کرنا اور ان سے کلام کرنے کی تفصیلات بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی کے حوالوں سے یہاں یکجا کی گئی ہیں۔
وستأتي عند المصنف برقم (4976) من طريق طلحة بن خراش عن جابر بن عبد الله، بإسناد حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت آگے نمبر (4976) پر حسن سند کے ساتھ آئے گی۔
وقوله في آخر الحديث: "سيد الشهداء حمزة" سيأتي برقم (4945) من طريق عطاء عن جابر.
📌 اہم نکتہ: حدیث کے آخر میں موجود الفاظ "سید الشہداء حمزہ" آگے نمبر (4945) پر مروی ہیں۔
وله طرق يمكن تحسينهُ باجتماعها كلها كما أوضحناه في تحقيقنا على "فتح الباري" 12/ 186 عند شرح الحديث (4072).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے مختلف طرق کو جمع کیا جائے تو یہ روایت "حسن" بن جاتی ہے، جیسا کہ ہم نے "فتح الباری" کی تحقیق (12/ 186) میں واضح کیا ہے۔
وأما الصلاة على شهداء أحد، فثبت عن جابر بن عبد الله خلافُ ما جاء في رواية ابن عقيل هذه، وذلك فيما أخرجه البخاري (1343) و (1347) و (4079)، وابن ماجه (1514)، والترمذي (1036)، والنسائي (2093)، وابن حبان (3197) من طريق عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر: أن النبي ﷺ أمر بدفنهم في دمائهم، ولم يغسلوا، ولم يصل عليهم.
📌 اہم نکتہ: شہدائے احد پر نماز کے معاملے میں حضرت جابر سے مروی صحیح ترین بات بخاری میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں غسل دیے اور نماز پڑھے بغیر خون آلود حالت میں دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔
وقد روي عن غير جابر بن عبد الله: أنه صلى عليهم، كحديث عبد الله بن الزُّبَير عند الطحاوي في "شرح المعاني" 1/ 503 وسنده حسن، وكمرسل أبي مالك الغفاري عند الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 503، والبيهقي 4/ 12، ومرسل عامر الشعبي عند أبي داود في "المراسيل" (428)، ورجالهما ثقات. وحديث ابن عباس الآتي برقم (4956).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابر کے علاوہ دیگر صحابہ جیسے عبداللہ بن زبیر کی روایات (جس کی سند حسن ہے) سے نماز پڑھنا بھی ثابت ہے، اسی طرح امام شعبی کی مرسل روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
قال ابن القيم في "حاشيته على سنن أبي داود" 4/ 296: الذي يظهر من أمر شهداء أُحد أنه لم يُصلِّ عليهم عند الدفن، وقد قُتِل معه بأحدٍ سبعون نفسًا، فلا يجوز أن تخفي الصلاةُ عليهم، وحديث جابر بن عبد الله في ترك الصلاة عليهم صحيح صريح وأبوه عبد الله أحد القتلى يومئذ، فله من الخبرة ما ليس لغيره. وانظر تعليقنا على "سنن أبي داود" (3135) و (3223).
📌 اہم نکتہ: امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ دفن کے وقت نماز نہیں پڑھی گئی تھی۔ چونکہ حضرت جابر کے والد خود ان شہداء میں تھے، اس لیے ان کی گواہی دیگر سے زیادہ معتبر ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: حاشیہ ابن قیم علیٰ سنن ابی داؤد (4/ 296)۔