المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
98. قصة فتح مكة والطائف وهجر .
فتحِ مکہ، طائف اور ہَجَر کے واقعات
حدیث نمبر: 2591
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا طلحة بن جَبر الأنصاري، عن المُطَّلب بن عبد الله، عن مصعب بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن ابن عوف، قال: افتَتَح رسول الله ﷺ مكةَ، ثم انصرف إلى الطائف فحاصَرَهم ثمانيةً أو سبعةً، ثم أوْغَلَ غَدوةً أو رَوحةً، ثم نزل ثم هَجَّر، ثم قال:"أيها الناس، إني لكم فَرَطٌ، وإني أُوصيكم بعِتْرتي خيرًا، موعدكم الحوضُ، والذي نفسي بيده، لَتقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتون الزكاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا مني -أو كنفسي- فليَضْرِبَنَّ أعناقَ مُقاتِليهم، ولَيسبِيَنَّ ذَرارِيَّهم"، قال: فرأى الناسُ أنه يعني أبا بكر أو عمر، فأخذ بيدِ عليٍّ، فقال:"هذا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2559 - طلحة ليس بعمدة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2559 - طلحة ليس بعمدة
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے اور سات یا آٹھ دن ان کا محاصرہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح یا (شاید فرمایا) شام وہاں سے کوچ فرمایا پھر ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں سے دوپہر کے وقت روانگی اختیار کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے اوپر خوش ہوں اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی تاکید کرتا ہوں، میری تم سے ملاقات حوض کوثر پر ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور نمازیں قائم کرو گے اور تم ضرور زکوۃ ادا کرو گے ورنہ میں تم پر اپنی طرف سے یا (شاید یہ فرمایا) اپنے جیسا ایک آدمی بھیجوں گا جو تمہارے جنگ جوؤں کی گردنیں مارے گا اور تمہارے بچوں کو قیدی بنائے گا (عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: لوگ یہ سمجھے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2591]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2591 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في إسناده ضعف، طلحة بن جبر مختلف فيه، وثقه ابن معين في رواية، وضعَّفه في رواية أخرى، ووهّاه أبو إسحاق الجُوزجاني، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يرو هذا الحديث غيره، ومع ذلك فقد صحَّح حديثه هذا المصنّف ومن قبله الطبري في "تهذيب الآثار" في الجزء المفرد بتحقيق علي رضا ص 159.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں ضعف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی طلحہ بن جبر کے بارے میں اختلاف ہے؛ ابن معین نے ایک روایت میں ثقہ اور دوسری میں ضعیف کہا، جوزجانی نے انہیں بہت کمزور قرار دیا، جبکہ ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ اس حدیث کو ان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، تاہم امام احمد اور امام طبری نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: طبری، "تہذیب الآثار" (تحقیق علی رضا، ص 159)۔
وسيأتي عند المصنف بالأرقام (2608) و (2647) من طريق منصور بن المعتمر، عن ربعي ابن حراش، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبي ﷺ مخاطب ببعض ما ورد هنا قريشًا.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت مصنف کے ہاں نمبر (2608) اور (2647) پر منصور بن معتمر عن ربعی بن حراش عن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے طریق سے آئے گی، جس میں نبی ﷺ نے قریش کو مخاطب فرمایا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 12/ 65 و 14/ 508، والفاكهي في "أخبار مكة" (1962)، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 282 - 283، والبزار (1050)، ومحمد بن نصر المروَزي في "تعظيم قدر الصلاة" (968)، وأبو يعلى في "مسنده" (859)، والطبري في "تهذيب الآثار" في القسم المفرد بتحقيق علي رضا ص 159، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 42/ 342 من طرق عن عُبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد، وجاء عندهم جميعًا فحاصرهم تسع عشرة أو ثمان ¤ ¤ عشرة، إلّا الطبري فقال في روايته: سبع عشرة أو ثماني عشرة.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تخریج ابن ابی شیبہ (12/ 65)، فاکہی (1962)، یعقوب بن سفیان (1/ 282)، بزار (1050)، مروزی (968)، ابو یعلی (859)، طبری (ص 159) اور ابن عساکر (42/ 342) نے عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تمام روایات میں "19 یا 18" دن کے محاصرے کا ذکر ہے، سوائے طبری کے جنہوں نے "17 یا 18" روایت کیا ہے۔
قوله: "لكم فَرَط" أي: متقدَّم وسابق.
📌 اہم نکتہ: "لكم فَرَط" کے معنی ہیں: تمہارا پیش رو اور تم سے پہلے پہنچنے والا۔