المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
107. النَّهْيُ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا
لونڈی اور اس کے بچے کو الگ الگ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2608
أخبرني أبو عبد الله أحمد بن قانِع قاضي الحرمَين ببغداد، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحَرّاني (1) ، حدثنا محمد بن سلمة الحَرّاني، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمِر، عن رِبْعي بن حِراش، عن علي بن أبي طالب، قال: خرج عبْدانٌ إلى رسول الله ﷺ يوم الحُديبيَةِ قبل الصُّلْح، فكتب إليه مَوالِيهم، قالوا: يا محمد، والله ما خَرَجوا إليك رَغْبةً في دينك، وإنما خرجوا هِرابًا من الرِّقِّ، فقال ناسٌ: صدقوا يا رسول الله، رُدَّهم إليهم، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال:"ما أُراكم تَنْتَهون يا معشرَ قريش، حتى يبعثَ الله عليكُم مَن يضربُ رقابَكم على هذا" وأبَى أن يرُدَّهم، فقال:"هُم عُتقاءُ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2576 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2576 - على شرط مسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح سے پہلے حدیبیہ کے دن کچھ غلام بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے، ان کے مالکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا اور کہا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین کی رغبت میں نہیں آئے بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں، کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ ان (غلاموں) کو واپس کر دیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! میرا خیال ہے کہ تم تب تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تم پر ایسا شخص نہ بھیج دے جو اس معاملے پر تمہاری گردنیں مارے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2608]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق، لكن تابعه شريك النخعي، فتُغتفر عنعنتُه هنا.» [ترقيم الرساله 2608] [ترقيم الشركة 2591] [ترقيم العلميه 2576]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2608 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الخولاني، ولا يُعرف ذلك في نسبته، وإنما المعروف أنه البكائي مولاهم، وبنو البكاء هم بنو ربيعة بن عامر بن صعصعة، وهو من بلد حَرّان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الخولانی" ہو گیا ہے، جبکہ درست "البکائی" (مولیٰ) ہے، جن کا تعلق حران سے ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق، لكن تابعه شريك النخعي، فتُغتفر عنعنتُه هنا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق کی "عنعنہ" کی وجہ سے سند حسن ہوتی، مگر چونکہ شریک نخعی نے ان کی متابعت کر رکھی ہے، اس لیے یہاں عنعنہ کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے (قابل معافی ہے)۔
وأخرجه أبو داود (2700) عن عبد العزيز بن يحيى الحراني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں (2700) پر عبد العزیز بن یحییٰ الحرانی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه من طريق شريك النخعي عن منصور بن المعتمر برقم (2647) و (8013).
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت آگے چل کر شریک نخعی عن منصور بن معتمر کے طریق سے نمبر (2647) اور (8013) پر آئے گی۔
وانظر ما تقدَّم برقم (2591).
📝 نوٹ / توضیح: اس سے متعلق سابقہ روایت نمبر (2591) ملاحظہ فرمائیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2608 in Urdu