🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. النهي عن التفريق بين جارية وولدها
لونڈی اور اس کے بچے کو الگ الگ کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
أخبرني أبو عبد الله أحمد بن قانِع قاضي الحرمَين ببغداد، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحَرّاني (1) ، حدثنا محمد بن سلمة الحَرّاني، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمِر، عن رِبْعي بن حِراش، عن علي بن أبي طالب، قال: خرج عبْدانٌ إلى رسول الله ﷺ يوم الحُديبيَةِ قبل الصُّلْح، فكتب إليه مَوالِيهم، قالوا: يا محمد، والله ما خَرَجوا إليك رَغْبةً في دينك، وإنما خرجوا هِرابًا من الرِّقِّ، فقال ناسٌ: صدقوا يا رسول الله، رُدَّهم إليهم، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال:"ما أُراكم تَنْتَهون يا معشرَ قريش، حتى يبعثَ الله عليكُم مَن يضربُ رقابَكم على هذا" وأبَى أن يرُدَّهم، فقال:"هُم عُتقاءُ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2576 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح سے پہلے دو غلام بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، ان کے مالکوں نے آپ کی جانب مکتوب لکھا جس میں یہ تھا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کی قسم! یہ لوگ آپ کے دین میں شوق کی وجہ سے آپ کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگنے کے لیے یہاں سے گئے ہیں، کچھ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو واپس بھیج دیجئے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: اے اہلِ قریش! تم پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو؟ (کہ اگر تم یونہی پیچھے ہٹتے رہے) تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسا شخص مسلط کر دے گا جو اسی بناء پر تمہاری گردنیں مار دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بھیجنے سے انکار کر دیا۔ اور فرمایا: یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2608]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2608 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الخولاني، ولا يُعرف ذلك في نسبته، وإنما المعروف أنه البكائي مولاهم، وبنو البكاء هم بنو ربيعة بن عامر بن صعصعة، وهو من بلد حَرّان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الخولانی" ہو گیا ہے، جبکہ درست "البکائی" (مولیٰ) ہے، جن کا تعلق حران سے ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق، لكن تابعه شريك النخعي، فتُغتفر عنعنتُه هنا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق کی "عنعنہ" کی وجہ سے سند حسن ہوتی، مگر چونکہ شریک نخعی نے ان کی متابعت کر رکھی ہے، اس لیے یہاں عنعنہ کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے (قابل معافی ہے)۔
وأخرجه أبو داود (2700) عن عبد العزيز بن يحيى الحراني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں (2700) پر عبد العزیز بن یحییٰ الحرانی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه من طريق شريك النخعي عن منصور بن المعتمر برقم (2647) و (8013).
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت آگے چل کر شریک نخعی عن منصور بن معتمر کے طریق سے نمبر (2647) اور (8013) پر آئے گی۔
وانظر ما تقدَّم برقم (2591).
📝 نوٹ / توضیح: اس سے متعلق سابقہ روایت نمبر (2591) ملاحظہ فرمائیں۔