🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
120. من دخل على أمراء فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم ليس بوارد على الحوض
جو حکمرانوں کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ظلم میں ان کی مدد کرے وہ حوضِ کوثر پر نہیں آئے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
أخبرَناه أبو بكر محمد بن إبراهيم البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغوَل، عن أبي حَصِين، عن الشَّعْبي، عن كعب بن عُجْرة قال: خرج علينا رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ ونحن في المسجد، خمسةٌ من العرب وأربعةٌ من العَجَم، فقال:"تَسْمَعُون؟" قلنا: سَمِعنا، مرتين، قال:"اسْمَعُوا، إنه سيكون بعدي أمراءُ، فمَن دَخَلَ عليهم فصدَّقهم بكَذِبِهم، وأعانهم على ظُلمِهم، فليس منِّي ولستُ منه، وليس بواردٍ عليَّ الحوضَ، ومَن لم يَدخُلْ عليهم ولم يُصدِّقْهم بكذبهم، ولم يُعِنْهم على ظلمِهم، فهو منِّي وأنا منه، وسيَرِدُ عليَّ الحوضَ" (1) . رواه مِسعَر بن كِدَام وسفيان الثَّوْري، عن أبي حَصِين، عن الشَّعْبي، عن عاصم العَدَوي، عن كعب بن عُجْرة. أما حديث الثَّوري:
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسجد میں تھے، ہم میں سے پانچ عرب اور چار غیر عرب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار پوچھا، پھر فرمایا: سن لو! میرے بعد عنقریب ایسے حکمران ہوں گے، پس جو شخص ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے، اور وہ میرے پاس حوض پر ہرگز نہیں آئے گا، اور جس نے ان کے پاس جا کر نہ تو ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ عنقریب میرے پاس حوض پر آئے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 265]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 265 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، فيه محمد بن مسلمة، وفيه مقال - كما سيأتي بيانه عند الحديث (2966) - وفيه انقطاع بين الشعبي وكعب بن عجرة، بينهما في هذا الحديث عاصم العدوي كما سيذكر المصنف. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ مخصوص سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے جس پر کلام ہے (جیسا کہ حدیث 2966 میں آئے گا)، نیز شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان انقطاع ہے؛ ان دونوں کے درمیان اس حدیث میں عاصم العدوی کا واسطہ ہے جیسا کہ خود مصنف ذکر کریں گے۔
أبو حَصين: هو عثمان بن عاصم الأسدي، والشعبي: هو عامر بن شَرَاحيل.
🔍 ناموں کی تحقیق: ابو حصین سے مراد عثمان بن عاصم الاسدی ہیں، اور شعبی سے مراد عامر بن شراحیل ہیں۔