🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. سيكون فى أمتي أقوام يكذبون بالقدر
میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن [أبي] أيوب، أخبرني أبو صَخْر، عن نافع قال: كان لابن عمر صديقٌ من أهل الشام يكاتبُه، فكَتَبَ إليه عبدُ الله بن عُمر: أنه بَلَغَني أنك تكلَّمت في شيءٍ من القَدَر، فإياك أن تكتبَ إليَّ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّه سيكون في أمَّتي أقوامٌ يكذِّبون بالقَدَر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي صخرٍ حميد بن زياد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 285 - على شرط مسلم
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا جس سے ان کی خط و کتابت رہتی تھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے تقدیر کے بارے میں کچھ (غلط) باتیں کی ہیں، لہٰذا اب مجھے دوبارہ خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوصخر حمید بن زیاد سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 288]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 288 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن إن شاء الله، وذلك من أجل أبي صخر: وهو حميد بن زياد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابوصخر (حمید بن زیاد) کی وجہ سے حسن ہے ان شاء اللہ۔
والحديث في "مسند أحمد" 9/ (5639)، وعن أحمد أخرجه أيضًا أبو داود (4613).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "مسند احمد" (ج 9، 5639) میں ہے، اور امام احمد کے واسطے سے اسے ابوداؤد (4613) نے بھی روایت کیا ہے۔