المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ثلاثة حق على الله أن يعينهم
تین افراد ایسے ہیں جن کی مدد اللہ پر لازم ہے
حدیث نمبر: 2896
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك، حدثنا عَمرو بن ثابت، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن عبد الله بن سهل بن حُنَيف، أنَّ سهلًا حدَّثه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن أعانَ مُجاهدًا في سبيل الله - أو غازِيًا - أو غارِمًا في عُسرتِه، أو مكاتبًا في رقبتِه، أظلَّه الله في ظِلّه يومَ لا ظِلَّ إلّا ظِلُّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2860 - بل عمرو رافضي متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2860 - بل عمرو رافضي متروك
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مجاہد فی سبیل اللہ کی، یا کسی مقروض کی تنگی کی حالت میں یا کسی مکاتب کی اس کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں مدد کی، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2896]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2896 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت: وهو عمرو بن أبي المقدام البكري، ولأنَّ عبد الله بن سهل لا يُعرف روى عنه غير عبد الله بن محمد بن عَقِيل، ولم يرو هذا الحديث غيره، وقد توبع عمرو بن ثابت عليه فيما تقدم برقم (2479)، فيبقى الشأن في تفرد ابن عَقيل به. وله شواهد أوردناها هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عمرو بن ثابت" (عمرو بن ابی المقدام البکری) کا ضعف ہے، اور یہ کہ "عبد اللہ بن سہل" مجہول ہیں کیونکہ ان سے "عبد اللہ بن محمد بن عقیل" کے سوا کوئی روایت نہیں کرتا، اور یہ حدیث ان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔ اگرچہ عمرو بن ثابت کی متابعت (تائید) نمبر (2479) میں موجود ہے، لیکن معاملہ "ابن عقیل" کے تفرد (اکیلے روایت کرنے) پر اٹکا ہوا ہے۔ البتہ اس کے شواہد موجود ہیں جو ہم نے وہاں ذکر کیے ہیں۔