المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. تَوَاضُعُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تواضع
حدیث نمبر: 2985
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ اقرأ ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ [يوسف: 50] ، قال:"لو بُعِثَ إلىَّ لأسرعتُ الإجابةَ وما ابتَغيتُ العُذْرَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2948 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2948 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ ”آپ (بادشاہ سے) پوچھیں کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟“ [سورة يوسف: 50] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر (بادشاہ کا) بلانے والا میری طرف بھیجا جاتا تو میں (سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرح بریت کا مطالبہ کرنے کے بجائے) جلد ہی اسے قبول کر لیتا اور عذر تلاش نہ کرتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2985]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة الليثي.» [ترقيم الرساله 2985] [ترقيم الشركة 2966] [ترقيم العلميه 2948]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2985 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8554) و 15/ (9060) عن عفان، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (14/ 8554، 15/ 9060) نے عفان عن حماد بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وروى البخاري (3372) و (4694) ومسلم (151) وغيرهما من حديث الزهري، عن أبي سلمة وسعيد بن المسيب، عن أبي هريرة رفعه: "ولو لبثتُ في السجن ما لبثَ يوسف لأجبتُ الداعي"، وسيأتي عند المصنف برقم (3365) من طريق يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة مثل ما عندهما، وزاد فيه الآية المذكورة في الحديث هنا.
📖 حوالہ / تخریج: بخاری (3372، 4694) اور مسلم (151) نے زہری عن ابی سلمہ و سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ مرفوعاً روایت کیا: "اگر میں قید خانے میں اتنا ٹھہرتا جتنا یوسف ٹھہرے تو بلانے والے کی بات مان لیتا"۔ یہ آگے نمبر (3365) پر یزید بن ہارون عن محمد بن عمرو عن ابی سلمہ کے طریق سے آئے گا، جس میں یہاں مذکور آیت کا اضافہ ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2985 in Urdu