🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. تواضعه صلى الله عليه وسلم
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تواضع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن محمد، حدثنا هارون بن حاتم، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي حمّاد، حدثني إسحاق بن يوسف، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لعليٍّ:"يا عليُّ، الناسُ من شجرٍ شَتَّى، وأنا وأنت من شجرةٍ واحدةٍ"، ثم قرأ رسول الله: ﷺ ﴿وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ (1) وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ﴾ [الرعد: 4] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يًخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2949 - لا والله هارون هالك
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ: تمام لوگ مختلف درختوں سے ہیں جبکہ میں اور تو ایک ہی درخت سے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الرعد کی آیت نمبر 4) تلاوت کی وَ جَنَّاتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَ غَیْرُ صِنْوَانٍ تُسْقَی بِمَآئٍ وَاحِد ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2986]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2986 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ص): "وزروع" وصحح عليها في (ز)! والتلاوة بإجماع: (وزَرْع) بلفظ المفرد، كما في (ع) و (ب).
📝 تصحیحِ متن: نسخہ (ز، ص) میں "وزروع" ہے، لیکن اجماع کے ساتھ تلاوت (وزَرْع) مفرد لفظ کے ساتھ ہے، جیسا کہ نسخہ (ع، ب) میں ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًا، أبو العبَّاس أحمد بن محمد - وهو السِّجزي كما سلف تقييده عند المصنف برقم (2976) - وهَّاه الذهبي في "السير" 14/ 296، وهارون بن حاتم قال الذهبي في "تلخيصه" هنا: هالك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو العباس احمد بن محمد (جو کہ السجزی ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (2976) پر اس کی قید گزری ہے) کو ذہبی نے "السیر" 14/ 296 میں کمزور قرار دیا ہے؛ اور ہارون بن حاتم کے بارے میں ذہبی نے یہاں "التلخیص" میں کہا ہے: "یہ ہالک (سخت ضعیف) ہے"۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (4150) من طريق عمرو بن عبد الغفار، عن محمد بن علي السلمي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، به - دون ذكر الآية. وعمرو بن عبد الغفار هذا متروك واتُّهم بوضع الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الأوسط" (4150) میں عمرو بن عبد الغفار، عن محمد بن علی السلمی، عن عبد اللہ بن محمد بن عقیل کے طریق سے روایت کیا ہے - بغیر آیت کے ذکر کے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ عمرو بن عبد الغفار "متروک" راوی ہے اور اس پر حدیث گھڑنے (وضع) کا الزام ہے۔