🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. الذين لم يشأ الله أن يصعقهم هم شهداء الله
جنہیں اللہ نے بے ہوش نہ کرنے کا ارادہ فرمایا وہ اللہ کے گواہ شہداء ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3037
حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد القَبَّاني، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، قالا حدثنا أبو أسامة، عن عمر بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ: أنه سأل جبريلَ ﵇ عن هذه الآية: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [الزمر:68] :"مَن الذين لم يَشَأِ اللهُ أن يَصعَقَهم؟ قال: هم شهداءُ الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3000 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین علیہ السلام سے (سورۂ زمر کی) اس آیت (نمبر 68): (وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَائَ اللّٰہُ) (الزمر: 68) اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے ۔ کے متعلق پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بے ہوش نہیں کرے گا؟ سیدنا جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: وہ لوگ اللہ عزوجل کے گواہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3037]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3037 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وعمر بن محمد: هو ابن زيد بن عبد الله ابن عمر العُمري، كما قيَّده الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" (17869).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ابو اسامہ سے مراد ’حماد بن اسامہ‘ ہیں، اور عمر بن محمد سے مراد ’عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر العمری‘ ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "إتحاف المهرة" (17869) میں اس کی تقیید (تعین و وضاحت) کی ہے۔
وأخرجه أبو منصور الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (1763) من طريق بقية بن الوليد، وابن أبي الدنيا في "صفة الجنة" (248)، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" - كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (5806) وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 7/ 97 من طريق إسماعيل بن عياش، كلاهما عن عمر بن محمد، بهذا الإسناد - وعند ابن عياش زيادة على ما في حديث أبي أسامة، وأبو أسامة أحفظ وأوثق، وفي رواية إسماعيل بن عياش عن غير الشاميين تخليط، وعمر بن محمد مدنيّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو منصور الدیلمی نے "مسند الفردوس" میں تخریج کیا ہے جیسا کہ ابن حجر کی "الغرائب الملتقطة" (1763) میں ہے (بقیہ بن ولید کے طریق سے)۔ اور ابن ابی الدنیا نے "صفة الجنة" (248) میں، اور ابو یعلیٰ نے اپنی "مسندِ کبیر" میں - جیسا کہ بوصیری کی "إتحاف الخيرة" (5806) میں ہے، اور ابن بطہ نے "الإبانة الكبرى" 7/ 97 میں اسماعیل بن عیاش کے طریق سے نکالا ہے۔ یہ دونوں (بقیہ اور اسماعیل) عمر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اسی سند کے ساتھ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عیاش کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے جو ابو اسامہ کی حدیث میں نہیں ہیں، حالانکہ ابو اسامہ (ابن عیاش کے مقابلے میں) زیادہ بڑے حافظ اور زیادہ ثقہ ہیں۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اور اسماعیل بن عیاش کی شامیوں کے علاوہ دوسروں (غیر شامیوں) سے روایت میں ’تخلیط‘ (گڑبڑ) پائی جاتی ہے، اور یہاں راوی عمر بن محمد ’مدنی‘ ہیں (شامی نہیں، اس لیے اسماعیل کی روایت اصولاً کمزور ہے)۔