المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. صل حيث ما توجهت بك راحلتك فى التطوع
نفل نماز میں جہاں تمہاری سواری رخ کرے وہیں نماز پڑھ لو
حدیث نمبر: 3091
أخبرني محمد بن إسحاق العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو ابن طلحة القنَّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبَّاس في قول الله: ﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ﴾ [البقرة: 121] قال: يُحِلُّون حلالَه، ويُحرِّمون حرامَه، ولا يُحرِّفونه عن مواضعِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3054 - صحيح........
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3054 - صحيح........
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:” اَلَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ “ (البقرۃ: 121) ” جنہیں ہم نے کتاب دی وہ جیسی چاہے اس کی تلاوت کرتے ہیں “۔ کے متعلق فرمایا: وہ اس کے حلال کو حلال سمجھتے ہیں اور اس کے حرام کردہ کو حرام سمجھتے ہیں اور اس کو ان کے مقامات سے ہٹاتے نہیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3091]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3091 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن. السُّدِّي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن، وأبو مالك: هو الغفاري واسمه غزوان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سدی سے مراد ’اسماعیل بن عبدالرحمن‘ ہیں، اور ابو مالک سے مراد ’الغفاری‘ ہیں جن کا نام غزوان ہے۔
وأخرجه محمد بن نصر المروزي في "تعظيم قدر الصلاة" (386)، والطبري في "تفسيره" 1/ 519، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 218 من طريق عمرو بن محمد العنقزي، عن أسباط ابن نصر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن نصر المروزی نے "تعظيم قدر الصلاة" (386) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 519 میں، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 218 میں عمرو بن محمد العنقزی کے طریق سے، انہوں نے اسباط بن نصر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔