المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. شرح معنى ( البأساء والضراء )
بأساء اور ضرّاء کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3117
أخبرنا أبو محمد جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، حدثنا عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عبَّاس: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ [البقرة: 178] ، قال: هو: العَمْد يَرضَى أهلُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3080 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3080 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ “ (البقرۃ: 178) ” تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہو “۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد میں مقتول کے ورثاء رضا مندی سے (دیت پر راضی ہو کر قصاص) معاف کر دیں، (یا سرے سے قتل ہی معاف کر دیں۔) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3117]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3117 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 2/ 107 عن المثنى بن إبراهيم، عن حجاج بن المنهال، بهذا الإسناد - وفيه: يرضى أهله بالدية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 107 میں مثنیٰ بن ابراہیم سے، انہوں نے حجاج بن منہال سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے - اور اس میں ہے: "اس کے گھر والے دیت پر راضی ہو جائیں"۔
وكذلك أخرجه البيهقي 8/ 52 من طريق أبي عامر العقدي، عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے بیہقی نے 8/ 52 میں ابو عامر العقدی کے طریق سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وبنحوه أخرجه البخاري (4498) و (6881)، والنسائي (6957) و (10947)، وابن حبان (6010) من طريق مجاهد، عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل بخاری نے (4498) اور (6881)، نسائی نے (6957) اور (10947)، اور ابن حبان نے (6010) میں مجاہد کے طریق سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے۔