🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. شَرْحُ مَعْنَى ( وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ ) الْآيَةَ
آیت“اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3126
أخبرنا أبو الحُسين (2) علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البَرَاء؛ قال له رجل: يا أبا عُمارةَ ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195] ، أهو الرجلُ يَلقَى العدوَّ فيقاتلَ حتى يُقتَل؟ قال: لا، ولكن هو الرجل يُذنِبُ الذنبَ، فيقول: لا يَغْفِرُه الله لي (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3089 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابوعمارہ! کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] سے مراد وہ شخص ہے جو دشمن کے لشکر سے ٹکراتا ہے اور لڑتے لڑتے شہید ہو جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کوئی گناہ کر بیٹھے اور پھر (مایوس ہو کر) کہے کہ اللہ اب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، جدُّ إسرائيل.» [ترقيم الرساله 3126] [ترقيم الشركة 3107] [ترقيم العلميه 3089]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3126 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسن، وانظر التعليق عليه فيما سلف عند المصنف برقم (1007).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (الحسن) کی طرف تحریف ہو گئی ہے، اور اس پر تعلیق (بحث) وہیں دیکھیں جو مصنف کے ہاں نمبر (1007) پر گزر چکی ہے۔
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، جدُّ إسرائيل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق سے مراد ’عمرو بن عبداللہ السبیعی‘ ہیں، جو اسرائیل کے دادا ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6691) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وانظر تتمة تخريجه في "مسند أحمد" 30/ (18477).
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الإيمان" (6691) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور اس کی بقیہ تخریج "مسند احمد" 30/ (18477) میں دیکھیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3126 in Urdu