🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. شَرْحُ مَعْنَى آيَةِ : ( وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ) الْآيَةَ
آیت“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی”کی تشریح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3295
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت مالكَ بن أنس يَذكُر. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسي، حدثنا عبد الله ابن مَسلَمة فيما قَرأ على مالك، عن زيد بن أبي أُنيسة، أنَّ عبد الحميد بن عبد الرحمن ابن زيد بن الخطَّاب أخبره عن مسلم بن يَسَار الجُهَني: أنَّ عمر بن الخطَّاب سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (2) وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾، فقال عمر بن الخطَّاب: سمعت رسول الله ﷺ وسُئِلَ عنها، فقال رسول الله ﷺ:"خَلَقَ اللهُ آدمَ، ثم مَسَحَ ظهرَه بيمينه فاستَخرَجَ منه ذُرِّيّةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للجنَّة، وبعمل أهلِ الجنة يَعمَلون، ثم مَسَحَ على ظهرِه فاستَخرَجَ منه ذُريةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للنار وبعمل أهل النار يَعمَلون"، فقال رجل: يا رسول الله، ففِيمَ العملُ؟ فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله إذا خَلَقَ الرجلَ للجنَّة، استَعمَلَه بعمل أهل الجنة.." الحديث (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3256 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 172] کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے ان کی پشت پر مسح فرمایا اور اس سے ان کی اولاد نکالی، پھر فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت والے عمل ہی کریں گے، پھر دوبارہ ان کی پشت پر مسح فرمایا اور اس سے (کچھ اور) اولاد نکالی اور فرمایا: میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم والے عمل کریں گے، اس پر ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے، تو اس سے اہل جنت والے کام ہی لیتا ہے...
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه كما سلف بيانه برقم (74).» [ترقيم الرساله 3295] [ترقيم الشركة 3275] [ترقيم العلميه 3256]

الحكم على الحديث: حسن لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3295 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) انظر التعليق على هذه القراءة في الحديث السابق.
📝 نوٹ / توضیح: اس قرات پر تبصرہ پچھلی حدیث میں دیکھیں۔
(1) حسن لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه كما سلف بيانه برقم (74).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، اور اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ رقم (74) پر بیان ہو چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3295 in Urdu