المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
131. شرح معنى : ( إذا استيأس ) الآية
آیت“جب وہ ناامید ہو گئے”کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3370
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي المَعمَري، حدثنا أبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحرَّاني حدثنا إبراهيم بن سعد، حدثني صالح بن كَيْسان، عن ابن شِهاب، عن [عروة بن الزُّبير] (1) عن عائشة؛ قال: قلتُ لها: قوله تعالى: ﴿حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا﴾ [يوسف: 110] ، قلت: لقد استيأَسوا أنهم كُذِبوا خفيفةً، قالت: مَعاذَ اللهِ أن تكون الرُّسلُ تظنُّ ذلك بربِّها، إنما هم أتباعُ الرسل، لما استأخَرَ عنهم النصرُ واشتدَّ عليهم البلاءُ، ظنَّت الرسلُ أن أتباعهم قد كَذَّبوا! (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [13 - سورة الرعد] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3330 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! [13 - سورة الرعد] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3330 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عروہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ فرماتے ہیں) میں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: حَتّٰٓی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْآ اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا (یوسف: 110) ” یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا “۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: واقعی وہ لوگ ناامید ہو گئے تھے کہ ان کو لوگوں نے جھٹلا دیا تھا، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء کرام علیہم السلام، اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسا نظریہ نہیں رکھ سکتے وہ تو رسولوں کے پیروکار لوگ تھے، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد میں تاخیر ہوئی اور ان پر آزمائشیں سخت تر ہو گئیں تو رسولوں نے یہ گمان کیا ان کے پیروکاروں کو جھٹلا دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3370]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3370 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه كذلك برقم (4525) من طريق ابن أبي مليكة، عن عروة بن الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے اسی طرح رقم (4525) پر ابن ابی ملیکہ کے طریق سے، عروہ بن زبیر سے روایت کیا ہے۔
وبالتثقيل (كُذِّبوا) كما كانت تقرأ عائشة ﵂ قرأها من السبعة ابنُ كثير ونافع وأبو عمرو وابن عامر، وقرأها الكوفيون (كُذِبوا) بالتخفيف. وانظر "فتح الباري" 13/ 429.
📝 نوٹ / توضیح: (كُذِّبوا) کو تشدید کے ساتھ پڑھنا (جیسا کہ حضرت عائشہ پڑھتی تھیں) قراءِ سبعہ میں سے ابن کثیر، نافع، ابوعمرو اور ابن عامر کی قرات ہے، جبکہ کوفی قراء نے اسے (كُذِبوا) تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ دیکھئے "فتح الباری" (13/ 429)۔
(1) ما بين المعقوفين من المطبوع وسقط من نسخنا الخطية، ولا بدَّ منه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹس کے درمیان والی عبارت مطبوعہ نسخے سے لی گئی ہے اور ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہو گئی تھی، حالانکہ یہ ضروری ہے۔
(2) خبر صحيح عن عائشة، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبد الرحمن بن واقد، إلَّا أنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر حضرت عائشہ سے صحیح ہے، لیکن یہ موجودہ سند عبدالرحمن بن واقد کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه بأطول ممّا هنا البخاري في "صحيحه" (4695) عن عبد العزيز بن عبد الله الأُويسي، عن إبراهيم بن سعد - وهو ابن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف - بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے "صحیح" (4695) میں اس سے زیادہ طویل شکل میں عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد (ابن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه البخاري أيضًا (3389) من طريق عقيل بن خالد، و (4696) من طريق شعيب بن أبي حمزة، كلاهما عن ابن شهاب الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے بھی (3389) میں عقیل بن خالد کے طریق سے، اور (4696) میں شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے، دونوں نے ابن شہاب زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے۔