🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
164. وَجْهُ تَسْمِيَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - سَيِّدًا وَحَصُورًا
حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو سردار اور پاکدامن کہلانے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3453
أخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن البَرَاء بن عازبٍ في قوله ﷿: ﴿قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴾ [مريم: 24] ، قال: هو الجدوَلُ، النهرُ الصَّغير (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3413 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴾ [مریم: 24] بے شک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے کے متعلق روایت ہے کہ اس سے مراد ایک چھوٹا نالا یا چھوٹی نہر ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،محمد بن كثير: هو العبدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي. وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 6 - 7، وكذا الطبري 16/ 69 من طريق سفيان الثوري، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3453] [ترقيم الشركة 3433] [ترقيم العلميه 3413]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3453 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. محمد بن كثير: هو العبدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي. وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 6 - 7، وكذا الطبري 16/ 69 من طريق سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند "صحیح" ہے۔ محمد بن کثیر: العبدی، سفیان: الثوری، ابو اسحاق: السبیعی۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (2/ 6-7) اور طبری (16/ 69) نے سفیان الثوری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
وأخرجه الطبري 16/ 69، وأبو القاسم البغوي في "الجعديات" (2115) و (2507) من طرق عن أبي إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (16/ 69) اور بغوی نے "الجعدیات" (2115، 2507) میں ابو اسحاق کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبراني في "الصغير" (685) من طريق أبي سنان سعيد بن سنان، عن أبي إسحاق، عن البراء، عن النبي ﷺ، فرفعه، وأبو سنان هذا له أوهام، وقد خالف من هو أوثق منه فرفعه وهم وقفوه، فروايته شاذّة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الصغیر" (685) میں ابو سنان سعید بن سنان کے طریق سے... عن البراء مرفوعاً روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو سنان کو وہم ہوتے ہیں، اور انہوں نے ثقہ راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مرفوع کیا جبکہ دوسروں نے موقوف رکھا، لہٰذا ان کی روایت "شاذ" ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3453 in Urdu