🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
164. وَجْهُ تَسْمِيَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - سَيِّدًا وَحَصُورًا
حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو سردار اور پاکدامن کہلانے کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3454
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحَفِيد، حدثنا أحمد بن نَصْر اللَّبّاد، أخبرنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس ﴿وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ [مريم: 52] ، قال: سَمِعَ صَرِيفَ القلم حين كَتَبَ في اللَّوْح (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3414 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ [مریم: 52] (اور ہم نے اسے سرگوشی کے لیے قریب کیا) کے متعلق روایت ہے کہ (سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے) اس وقت قلم کے چلنے کی آواز سنی تھی جب لوحِ محفوظ پر (تقدیر کے فیصلے) لکھے جا رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري، وسماعه من عطاء بن السائب قديم قبل اختلاطه.» [ترقيم الرساله 3454] [ترقيم الشركة 3434] [ترقيم العلميه 3414]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3454 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري، وسماعه من عطاء بن السائب قديم قبل اختلاطه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم: فضل بن دکین، سفیان: الثوری۔ سفیان کا عطاء سے سماع قدیم ہے، اختلاط سے پہلے کا۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 11/ 533، وهناد في "الزهد" (149)، وعبد الله بن أحمد في "السنة" (1231)، والطبري في "تفسيره" 16/ 94 من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (11/ 533)، ہناد نے "الزہد" (149)، عبد اللہ بن احمد نے "السنۃ" (1231) اور طبری (16/ 94) نے سفیان الثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ومثل هذا لا يقال بالرأي، فهو مرفوع حكمًا، وقد جاء في المرفوع من حديث أبي ذر الطويل في قصة المعراج عند البخاري (349) ومسلم (163) قول النبي ﷺ: "ثم عرج بي حتى ظهرتُ لمستوى أسمع فيه صريف الأقلام".
📌 اہم نکتہ: ایسی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی، لہٰذا یہ حکماً "مرفوع" ہے۔ اور صحیحین (بخاری: 349، مسلم: 163) میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کی معراج والی حدیث میں نبی ﷺ کا فرمان موجود ہے: "پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسے مقام پر پہنچا جہاں میں قلموں کے چلنے کی آواز سن رہا تھا"۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3454 in Urdu