🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. يُمَثَّلُ لِكُلِّ قَوْمٍ مَعْبُودُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن ہر قوم کے سامنے اس کا معبود لا کر کھڑا کر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3466
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد؛ قالا: حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق القُرشي، عن النُّعمان بن سعد، عن عليٍّ في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] ، قال علي: أمَا واللهِ ما يُحشَرُ الوفدُ على أرجلهم، ولا يُساقُون سَوقًا، ولكنهم يُؤتَونَ بنُوقٍ (1) لم تَرَ الخلائقُ مثلَها، عليها رَحْلُ الذهب، وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيركبون عليها حتى يَضرِبوا أبوابَ الجنة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [سورة مريم: 85] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وفد اپنے پیروں پر چل کر جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں (جانوروں کی طرح) ہنکا کر لایا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوق نے ان جیسی کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور ان کی مہاریں زبرجد (قیمتی پتھر) کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں پر دستک دیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بالقرشي كما توهَّمه بعض رواة الإسناد، بل هو أبو شيبة الواسطي، وهو ابن أخت النُّعمان بن سعد وقد تفرَّد بالرواية عنه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3466] [ترقيم الشركة 3445] [ترقيم العلميه 3425]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بالقرشي كما توهَّمه بعض رواة الإسناد، بل هو أبو شيبة الواسطي، وهو ابن أخت النُّعمان بن سعد وقد تفرَّد بالرواية عنه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد الرحمٰن بن اسحاق کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ وہ (ثقہ) "قرشی" نہیں ہیں جیسا کہ بعض کو وہم ہوا، بلکہ یہ "ابو شیبہ الواسطی" ہیں جو نعمان بن سعد کے بھانجے ہیں اور ان سے روایت میں "منفرد" ہیں۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسی کو علت قرار دیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8902) من طريق علي بن مسهر عن عبد الرحمن بن إسحاق.
📝 نوٹ / توضیح: اور یہ مصنف کے ہاں (8902) پر علی بن مسہر کے طریق سے عن عبد الرحمٰن بن اسحاق آئے گا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3466 in Urdu