🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

169. يُمَثَّلُ لِكُلِّ قَوْمٍ مَعْبُودُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن ہر قوم کے سامنے اس کا معبود لا کر کھڑا کر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3465
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة قالوا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا أبو غسّان مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، أخبرنا يزيد بن عبد الرحمن أبو خالد الدَّالَاني، حدثنا المِنهال بن عمرو، عن أبي عُبيدة، عن مسروق، عن عبد الله قال: يَجمَعُ اللهُ الناسَ يومَ القيامة، قال: فينادي منادٍ: يا أيها الناس، ألم تَرضَوْا من ربِّكم الذي خَلَقَكم ورَزَقَكم وصوَّرَكم، أن يُولِّيَ كلَّ إنسان منكم إلى من كان يتولَّى في الدنيا؟ قال: ويُمثَّلُ لمن كان يَعبُد عُزَيرًا شيطانُ عُزيرٍ، حتى يُمثَّلَ - أو تُمثَّل - لهم الشجرةُ والعُودُ والحَجَرُ، ويبقى أهلُ الإسلام جُثومًا، فيقال لهم: ما لكم لم تنطلقوا كما ينطلقُ الناسُ؟ فيقولون: إنَّ لنا ربًّا ما رأَيناه بعدُ، قال: فيقال: فبِمَ تعرفون ربَّكم إنْ رأيتموه؟ قالوا: بينَنا وبينَه علامةٌ، إنْ رأَيناه عَرَفْناه، قيل: وما هي؟ قالوا: يُكشَف عن ساقٍ، قال: فيُكشَفُ عند ذلك عن ساقٍ، قال: فيَخِرُّ من كان لظَهرِه طَبَقٌ (2) ساجدًا، ويبقى قومٌ ظهورُهم كصَيَاصِي البَقَر (1) يريدون السجودَ فلا يستطيعون. ثم يُؤمَرون فيَرفَعون رؤوسَهم فيُعطَونَ نورَهم على قَدْر أعمالهم، قال: فمنهم من يُعطَى نورَه مثلَ الجبل بين يديه، ومنهم من يُعطَى نورَه فوق ذلك، ومنهم من يُعطَى نورَه مثلَ النَّخْلة بيمينه، ومنهم من يُعطَى دون ذلك بيمينه، حتى يكونَ آخرُ ذلك من يُعطَى نورَه على إبهام قَدَمه، يُضيءُ مرةً ويَطفَأُ مرةً، فإذا أضاء قدَّمَه (2) ، وإذا طَفِئَ قام، قال: فيَمرُّ، ويمرُّون على الصِّراط، والصراطُ كحَدِّ السيف، دَحْضٌ مَزَلَّةٌ (3) ، فيقال لهم: انجُوا على قَدْرِ نُوركم، فمنهم من يمرُّ كانقِضاض الكوكب، ومنهم من يمرُّ كالطَّرْف، ومنهم من يمرُّ كالرِّيح، ومنهم من يمرُّ كشَدِّ الرَّجُل ويَرمُل رَمَلًا، فيمرُّون على قَدْر أعمالهم، حتى يمرَّ الذي نورُه على إبهام قدمِه، قال: تَخِرُّ يدٌ وتَعلَقُ يدٌ، وَتَخِرُّ رِجلٌ وتَعلَقُ، رجلٌ، وتصيبُ بجوانبه النارُ، قال: فيَخلُصون، فإذا خَلَصُوا قالوا: الحمد لله الذي نجَّانا منكِ بعد الذي أراناكِ، لقد أعطانا الله ما لم يُعطِ أحدًا. قال مسروق: قَلَّما بَلَغَ عبدُ الله هذا المكانَ من هذا الحديث إلَّا ضَحِكَ، فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن، لقد حدَّثتَ هذا الحديث مِرارًا، كلَّما بلغتَ هذا المكانَ من هذا الحديث ضحكتَ! فقال عبد الله: سمعتُ رسول الله ﷺ يحدِّثُه مِرارًا، قَلَّما بَلَغَ هذا المكانَ من هذا الحديث إلَّا ضَحِكَ حتى تَبدُوَ لَهَواتُه ويَبدُوَ آخرُ ضِرسٍ من أضراسه، لقول الإنسان: أَتهزَأُ بي وأنت ربُّ العالمين؟! فيقول: لا، ولكنِّي على ذلك قادرٌ، فسَلُوني (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3424 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں ہو جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں، کہ وہ تم میں سے ہر انسان کو اسی کے سپرد کر دے جس کی وہ دنیا میں پیروی کرتا تھا؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر (باطل معبودوں کی شکلیں بنا دی جائیں گی) یہاں تک کہ جو سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتا تھا اس کے لیے عزیر کا شیطان پیش کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ ان کے لیے درخت، لکڑی اور پتھر تک کی شکلیں بنا دی جائیں گی، جبکہ اہل اسلام گھٹنوں کے بل بیٹھے رہ جائیں گے، پس ان سے کہا جائے گا: تمہیں کیا ہوا کہ تم بھی ویسے ہی نہیں چلے جاتے جیسے باقی لوگ چلے گئے؟ وہ جواب دیں گے: بے شک ہمارا ایک رب ہے جسے ہم نے ابھی تک (بچشمِ خود) دیکھا نہیں ہے، تب ان سے پوچھا جائے گا: اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اسے کس علامت سے پہچانو گے؟ وہ کہیں گے: ہمارے اور اس کے درمیان ایک نشانی ہے کہ جب ہم اسے دیکھیں گے تو پہچان لیں گے، پوچھا جائے گا: وہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے: «ساق» (پنڈلی) کا ظاہر کیا جانا، وہ بیان کرتے ہیں کہ اسی وقت «يُكشَفُ عَنْ سَاقٍ» «ساق» ظاہر کر دی جائے گی، تو جو (دنیا میں اخلاص سے) سجدہ کرنے والے تھے وہ سجدے میں گر جائیں گے، جبکہ وہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے جن کی پیٹھیں گائے کے سینگوں کی طرح (سخت اور ناخمیاب) ہوں گی، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر کر نہیں پائیں گے۔ پھر انہیں حکم دیا جائے گا تو وہ اپنے سر اٹھائیں گے اور انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور عطا کیا جائے گا، ان میں سے کسی کو پہاڑ جتنا نور اس کے سامنے دیا جائے گا، کسی کو اس سے بھی زیادہ، کسی کو اس کی دائیں جانب کھجور کے درخت جتنا نور ملے گا اور کسی کو اس سے کم، یہاں تک کہ آخری شخص وہ ہوگا جسے اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر نور ملے گا جو کبھی روشن ہوگا اور کبھی بجھ جائے گا، جب وہ روشن ہوگا تو وہ اپنا قدم آگے بڑھائے گا اور جب بجھ جائے گا تو وہ کھڑا ہو جائے گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر سب کا گزر پل صراط پر ہوگا، اور صراط تلوار کی دھار کی مانند (تیز) اور نہایت پھسلن والی جگہ ہے، ان سے کہا جائے گا: اپنے نور کے مطابق نجات حاصل کرو، چنانچہ ان میں سے کوئی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی طرح گزر جائے گا، کوئی پلک جھپکنے کی رفتار سے، کوئی ہوا کی طرح، کوئی تیز دوڑنے والے آدمی کی طرح اور کوئی عام رفتار سے چلے گا، غرض وہ اپنے اعمال کے مطابق پار ہوں گے، یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جس کا نور اس کے انگوٹھے پر ہوگا، وہ بیان کرتے ہیں کہ (مشقت کی وجہ سے) اس کا ایک ہاتھ گرے گا اور ایک لٹک جائے گا، ایک پاؤں گرے گا اور ایک لٹک جائے گا اور آگ اس کے پہلوؤں کو چھو رہی ہوگی، وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ سب نجات پا جائیں گے، اور جب وہ نجات پا لیں گے تو کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں تجھ (آگ) سے نجات دی اس کے بعد کہ اس نے ہمیں تجھ کو دکھا دیا تھا، یقیناً اللہ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب بھی اس حدیث کے اس مقام پر پہنچتے تو وہ مسکرا دیتے، ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے یہ حدیث کئی بار بیان کی ہے اور جب بھی آپ اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے بارہا بیان کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب اس مقام پر پہنچتے تو ہنس دیتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو اور آخری داڑھیں مبارک نظر آنے لگتیں، کیونکہ انسان (حیرت و خوشی سے) کہے گا: (اے اللہ!) کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، بلکہ میں اس پر قادر ہوں، پس تم مجھ سے مانگو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني، والمنهال بن عمرو وثقه ابن معين وغيره، وقال الدارقطني: صدوق. والحديث وإن كانت صورته الوقف هنا، فإنَّ في آخر الحديث ما يُنبئ بالرَّفع. أبو عبيدة: هو ابن عبد الله بن مسعود. وسيأتي بنحوه بأطول ممّا هنا برقم (8966) من طريق أحمد بن أبي ...» [ترقيم الرساله 3465] [ترقيم الشركة 3444] [ترقيم العلميه 3424]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3466
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد؛ قالا: حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق القُرشي، عن النُّعمان بن سعد، عن عليٍّ في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] ، قال علي: أمَا واللهِ ما يُحشَرُ الوفدُ على أرجلهم، ولا يُساقُون سَوقًا، ولكنهم يُؤتَونَ بنُوقٍ (1) لم تَرَ الخلائقُ مثلَها، عليها رَحْلُ الذهب، وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيركبون عليها حتى يَضرِبوا أبوابَ الجنة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [سورة مريم: 85] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وفد اپنے پیروں پر چل کر جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں (جانوروں کی طرح) ہنکا کر لایا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوق نے ان جیسی کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور ان کی مہاریں زبرجد (قیمتی پتھر) کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں پر دستک دیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بالقرشي كما توهَّمه بعض رواة الإسناد، بل هو أبو شيبة الواسطي، وهو ابن أخت النُّعمان بن سعد وقد تفرَّد بالرواية عنه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3466] [ترقيم الشركة 3445] [ترقيم العلميه 3425]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں