المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
172. بين السماء والأرض مسيرة خمسمائة سنة
آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے
حدیث نمبر: 3469
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِمَاك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن العبَّاس بن عبد المطَّلِب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ فمرَّتْ سحابةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أتدرونَ ما هذا؟" فقلنا: اللهُ ورسولُه أعلمُ، فقال:"السَّحَابُ" فقلنا: السَّحابُ، فقال:"والمُزْنُ" فقلنا: والمُزْن، فقال:"والعَنَانُ" ثم سَكَتَ، ثم قال:"تدرونَ كم بين السماءِ والأرض؟" فقلنا: الله ورسوله أعلمُ، فقال:"بينهما مَسِيرةُ خمسِ مئةِ سنة، وبين كلِّ سماءٍ إلى السماء التي تَلِيها مسيرةُ خمسِ مِئة سنة، وكِثَفُ كلِّ سماء مسيرةُ خمسِ مئة سنة، وفوقَ السماءِ السابعة بحرٌ بين أعلاهُ وأسفلِه كما بين السماء والأرض، ثم فوقَ ذلك ثمانيةُ أوْعالٍ بين رُكَبِهم وأظلافِهم كما بين السماء والأرض، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3428 - وقد مر وهو صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3428 - وقد مر وهو صحيح
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بطحاء (کشادہ نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے (ہمارے اوپر سے) بادل کا ایک ٹکڑا گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سحاب (بادل) ہے، ہم نے پوچھا: سحاب (کا کیا مطلب ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” مزن “۔ ہم نے کہا:” مزن “ (کیا ہوتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” عنان “۔ ہم نے کہا:” عنان “ (کیا ہوتا ہے؟) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ زمین اور آسمان کے درمیان مسافت کتنی ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان 500 سال کی مسافت ہے۔ اور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک کی مسافت بھی 500 سال ہے اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان سے اوپر ایک سمندر ہے، اس کی تہہ سے سطح بالا تک کی مسافت اتنی ہے جتنی زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ پھر اس سے اوپر آٹھ فرشتے ہیں۔ ان کے پاؤں اور سروں کے درمیان کی مسافت بھی اتنی ہے، جتنی زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) ان سب پر ہے اور انسان کا کوئی عمل بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3469]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3469 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرَّر (3174).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ یہ (3174) پر مکرر ہے۔