المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
179. دُعَاءُ ذِي النُّونِ فِي بَطْنِ الْحُوتِ
حضرت ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں کی گئی دعا
حدیث نمبر: 3485
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثني يونس بن أبي إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن محمد بن سعد، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"دُعاءُ ذِي النُّونِ إِذْ دعا به وهو في بَطْن الحوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] ، أنه لم يَدْع بها رجلٌ مسلمٌ في شيءٍ قطُّ إِلَّا استُجيبَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے کی تھی: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”(اے اللہ!) تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں۔“ [سورة الأنبياء: 87] حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص کسی بھی معاملے میں اس کے ذریعے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3485]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن إسحاق. وهو مكرر (1883).» [ترقيم الرساله 3485] [ترقيم الشركة 3464] [ترقيم العلميه 3444]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3485 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن إسحاق. وهو مكرر (1883).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند یونس بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ (1883) پر مکرر ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3485 in Urdu