🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
241. إني عبد الله ، وخاتم النبيين ، وأبي منجدل فى طينته
میں اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں اور میرے والد میری مٹی گوندھنے کے وقت زمین پر گرے ہوئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سهل بِشْر بن سهل اللَّبّاد، حدثنا عبد الله بن صالح المِصْري، حدثني معاوية بن صالح، عن سعيد بن سُوَيد، عن عبد الأعلى بن هلال، عن عِرْباض بن ساريَةَ صاحبِ رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنِّي عبدُ الله وخاتَمُ النبيِّين وأَبي مُنجَدِلٌ في طِينتِه، وسأخبِرُكم عن ذلك: دعوةُ أَبي إبراهيمَ، وبِشارةُ عيسى، ورُؤْيا أمِّي التي رأَتْ، وكذلك أُمَّهاتُ النبيِّين يَرَيْن" وإنَّ أمَّ رسول الله ﷺ رأتْ حين وَضَعَته نُورًا أضاءت له قصورُ الشام، ثم تلا: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (45) وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾ [الأحزاب: 45، 46] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3566 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں عبداللہ ہوں، اور میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب میرا باپ (سیدنا آدم علیہ السلام) ابھی گارے مٹی میں تھے۔ اور میں عنقریب اس کے بارے میں تمہیں خبر دوں گا۔ میں اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ سیدنا آمنہ رضی اللہ عنہا کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کی ماؤں نے بھی دیکھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے آپ کی ولادت کے وقت ایک نور دیکھا جس کی وجہ سے ان کے لیے ملک شام کے محلات روشن ہو گئے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (الاحزاب: 45,46) اے نبی! ہم نے آپ کو بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3608]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3608 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره دون التلاوة، وهذا إسناد حسن إن شاء الله تعالى كما قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 494، إلّا أنَّ ذكر التلاوة في آخر الحديث انفرد به بشر بن سهل اللباد عن عبد الله بن صالح، وبشر هذا قد روى عنه جمع على ما وقع في الأسانيد، ولم يؤثر فيه جرح ولا تعديل، فهو مجهول الحال لكن يعتبر به في المتابعات والشواهد، إلّا أنه في هذا الحديث انفرد بذكر الآية، فقد رواه يعقوب بن سفيان وأبو إسماعيل الترمذي عند البيهقي في "الشعب" (1322) و"الدلائل" 1/ 80، وبكر بن سهل عند الطبراني في "الكبير" (18/ 629)، ثلاثتهم عن عبد الله بن صالح، فلم يذكروا التلاوة في آخره. وكذلك أخرجه أحمد (28/ 17150) عن عبد الرحمن بن مهدي، وابن حبان (6404) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد. وأخطأ عبد الرحمن بن مهدي فسمى عبدَ الأعلى بن هلال: عبدَ الله بن هلال، ونبَّه على ذلك عبد الله بن أحمد بإثر الرواية التي عند والده في "المسند".
⚖️ درجۂ حدیث: تلاوت کے ذکر کے بغیر یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند ان شاء اللہ "حسن" ہے جیسا کہ ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 494) میں کہا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سوائے اس کے کہ حدیث کے آخر میں تلاوت کا ذکر کرنے میں "بشر بن سہل اللباد" عبد اللہ بن صالح سے منفرد ہیں۔ بشر سے ایک جماعت نے روایت کی ہے، لیکن ان پر جرح و تعدیل منقول نہیں، لہٰذا وہ "مجہول الحال" ہیں لیکن متابعات میں معتبر ہیں۔ مگر اس حدیث میں وہ آیت کے ذکر میں منفرد ہیں، کیونکہ یعقوب بن سفیان، ابو اسماعیل ترمذی (بیہقی کے ہاں) اور بکر بن سہل (طبرانی کے ہاں)، ان تینوں نے عبد اللہ بن صالح سے روایت کیا لیکن آخر میں تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔ نیز احمد (28/ 17150) اور ابن حبان (6404) نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ عبد الرحمن بن مہدی نے غلطی سے عبد الاعلی بن ہلال کا نام "عبد اللہ بن ہلال" بتا دیا، جس پر عبد اللہ بن احمد نے مسند میں اپنے والد کی روایت کے بعد متنبہ کیا ہے۔
وسيأتي من وجه ضعيف عن سعيد بن سويد برقم (4220). وانظر شواهده هناك وفيما هو مفصَّل في التعليق على "مسند أحمد".
📝 نوٹ / توضیح: یہ آگے نمبر (4220) پر سعید بن سوید سے ایک "ضعیف" طریق سے آئے گا۔ اس کے شواہد وہاں اور مسند احمد کی تعلیق میں تفصیل سے دیکھیں۔
قوله: "وأبي منجدل في طينته" يريد آدم كما وقع صريحًا في روايات الحديث. ومنجدل: أي: ملقًى على الجَدَالة، وهي الأرض، وذلك قبل نفخ الرُّوح فيه.
📝 نوٹ / توضیح: قول "جبکہ میرے باپ اپنی مٹی میں منجدل تھے" سے مراد آدم علیہ السلام ہیں جیسا کہ دیگر روایات میں صراحت ہے۔ "منجدل" کا مطلب ہے زمین (جدالہ) پر پڑے ہوئے، اور یہ ان میں روح پھونکنے سے پہلے کی بات ہے۔