المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
256. تفسير سورة الصافات - أوصاف الملائكة
سورۂ الصافات کی تفسیر: فرشتوں کی صفات
حدیث نمبر: 3650
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي وائل شَقِيق بن سَلَمة قال: قرأَها عبدُ الله: (بل عَجِبتُ ويَسخَرونَ) [الصافات: 12] قال شُرَيح: إنَّ الله لا يَعجَبُ من شيءٍ، إنما يَعجَبُ من لا يَعلَم. قال الأعمش: فذكرتُ لإبراهيم، فقال: إِنَّ شُريحًا كان يُعجِبه رأيُه، إنَّ عبد الله كان أعلمَ من شُريح، وكان عبد الله يقرؤُها: (بل عَجِبتُ) (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3608 - على شرط البخاري ومسلم
ابووائل شقیق بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ (الصافات: 12) ” بلکہ تمہیں اچنبھا آیا اور وہ ہنسی کرتے ہیں۔“ شریح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کسی چیز سے حیران نہیں ہوتا صرف جاہل پر حیران ہوتا ہے۔ اعمش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے کیا تو انہوں نے کہا: شریح رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی اپنی یہ رائے بہت پسند تھی حالانکہ عبداللہ، شریح سے زیادہ علم والے ہیں اور عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ پڑھا کرتے تھے ” بَلْ عَجِبْتُ “ (یعنی وہ اس کو واحد متکلم کا صیغہ پڑھتے تھے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3650]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3650 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، وشريح المذكور: هو شريح بن الحارث الكندي القاضي، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ جریر سے مراد ابن عبد الحمید، شریح سے مراد شریح بن حارث کندی قاضی، اور ابراہیم سے مراد ابن یزید نخعی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (991) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (991) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 3/ 522 من طريق قتيبة بن سعيد، عن جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "التفسیر الوسیط" (3/ 522) میں قتیبہ بن سعید کے طریق سے جریر سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 148، والفرّاء في "معاني القرآن" 2/ 384 - ومن طريقه البيهقي (992) - من طريقين عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (2/ 148) اور فراء (معانی القرآن 2/ 384) نے اعمش کے واسطے سے دو طرق سے تخریج کیا ہے۔
وقراءة ابن مسعود هذه قرأ بها من السبعة حمزةُ والكسائي، انظر "السبعة في القراءات" لابن مجاهد ص 547.
📝 نوٹ / توضیح: ابن مسعود کی یہ قراءت "سبعہ قراء" میں سے حمزہ اور کسائی نے پڑھی ہے۔ ابن مجاہد کی "السبعہ" (ص 547) دیکھیں۔