المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
257. مَنْ دَعَا رَجُلًا إِلَى شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جس نے کسی کو کسی کام کی طرف بلایا وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا
حدیث نمبر: 3652
حدثنا عمر بن جعفر البَصْري، حدثنا الحسن بن أحمد التُّستَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ العَنبَري، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من داعٍ دعا رجلًا إلى شيء، إلَّا كان معه موقوفًا معهم يومَ القيامة، لازمًا له يُقادُ معه"، ثم قرأ هذه الآية: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] (1) . هكذا حدَّث به الحسنُ بن أحمد التُّستَري، ولو جاز لنا قَبولُه منه لكنَّا نُصحِّحُه على شرط الشيخين، ولكنا نقول: إنَّ صوابه:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی کسی کو کسی کام کی دعوت دیتا ہے، وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی لایا جائے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”اور انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] حسن بن احمد تستری نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے، اگر ہمارے لیے اسے قبول کرنا جائز ہوتا تو ہم اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کا درست متن اگلی حدیث والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، الحسن بن أحمد التستري قال فيه الدارقطني في "غرائب مالك" كما في ترجمته من "لسان الميزان": ضعيف جدًّا كان يُتَّهم بوضع الحديث. وانظر ما بعده.» [ترقيم الرساله 3652] [ترقيم الشركة 3631]
الحكم على الحديث: إسناده تالف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3652 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف، الحسن بن أحمد التستري قال فيه الدارقطني في "غرائب مالك" كما في ترجمته من "لسان الميزان": ضعيف جدًّا كان يُتَّهم بوضع الحديث. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن بن احمد تستری کے بارے میں دارقطنی نے کہا: "سخت ضعیف" ہے، اس پر حدیث گھڑنے (وضع الحدیث) کا الزام تھا۔ اگلی حدیث بھی دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3652 in Urdu