المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
257. من دعا رجلا إلى شيء كان معه موقوفا يوم القيامة
جس نے کسی کو کسی کام کی طرف بلایا وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا
حدیث نمبر: 3653
ما أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المعتمِر بن سليمان قال: سمعتُ ليثَ بن أبي سُلَيم يحدِّث عن بِشْر، عن أنس بن مالك قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن دعا أخاه المسلمَ إلى شيءٍ، وإن دعا رجلٌ رجلًا كان موقوفًا معه يومَ القيامة، لازمًا له يُقادُ معه"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ (2) . قال الحاكم: فقد بانَ برواية إمام عصرِه أبي يعقوب الحَنظَلي أنَّ للحديث أصلًا بإسنادٍ ما.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کو کسی چیز کی طرف بلاتا ہے، اگر کوئی شخص کسی کو کسی چیز کی ترغیب دلائے تو قیامت کے دن اسی کے ہمراہ موقوف ہو گا، اسی کے ساتھ ساتھ ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کو چلایا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وَ قِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ (الصافات: 24) ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اپنے زمانے کے امام ابویعقوب حنظلی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس حدیث کی ایک سند کے ہمراہ اصل بہرحال موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3653]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3653 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم وجهالة شيخه بشر. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه أبو يعقوب الحنظلي.
⚖️ درجۂ حدیث: "لیث بن ابی سلیم" کے ضعف اور ان کے شیخ "بشر" کی جہالت کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن راہویہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3228) عن أحمد بن عبدة الضبي، عن معتمر بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3228) نے احمد بن عبدہ ضبی کے طریق سے معتمر بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
قال الترمذي: هذا حديث غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "غریب" ہے۔
وأخرجه - دون ذكر الآية - ابن ماجه (208) من طريق أبي معاوية الضرير، عن ليث بن أبي سليم، عن بشير بن نَهيك، عن أبي هريرة رفعه. فجعله ليث من رواية بشير بن نهيك عن أبي هريرة، وهذا من سوء حفظه واضطرابه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (208) نے (آیت کے ذکر کے بغیر) ابو معاویہ ضریر کے طریق سے، انہوں نے لیث سے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے مرفوعاً تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیث نے اسے بشیر بن نہیک عن ابی ہریرہ بنا دیا، یہ ان کے "سوء حفظ" اور "اضطراب" کی وجہ سے ہے۔