🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
259. رؤيا الأنبياء وحي
انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3656
فحدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن شَرِيك بن عبد الله بن أبي نَمِر، عن أنس قال: كان النبي ﷺ تنامُ عيناهُ ولا ينامُ قلبُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! ﷽ [38 - ومن سورة (ص) ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3614 - يعقوب ضعيف ولم يرو له مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی (صرف) آنکھیں سوتی ہیں جبکہ آپ کا دل بیدار رہتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3656]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3656 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد، فيعقوب بن محمد الزهري في حديثه لين وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، لكنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔ "یعقوب بن محمد زہری" کی حدیث میں "نرمی" (لین) ہے (ذہبی نے التلخیص میں اسے علت بنایا)، لیکن وہ متابعات میں معتبر ہیں اور ان کی متابعت موجود ہے۔
فقد أخرجه البخاري (3570) و (7515) من طريقين عن سليمان بن بلال، عن شريك بن أبي نمر، عن أنس في قصة الإسراء والمعراج. وهو عند مسلم أيضًا (162) (262) من طريق سليمان بن بلال إلّا أنه لم يسق لفظه. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ بخاری (3570، 7515) نے سلیمان بن بلال سے دو طرق سے، انہوں نے شریک بن ابی نمر سے، انہوں نے انس سے قصہ معراج میں تخریج کیا ہے۔ یہ مسلم (162-262) میں بھی ہے، لیکن وہاں الفاظ نہیں ہیں۔ لہٰذا حاکم کا استدراک ان کا "ذہول" ہے۔
ويشهد له حديث عائشة مرفوعًا عند البخاري (1147) ومسلم (738)، قالت عائشة: قلت: يا رسول الله، أتنام قبل أن توتر؟ فقال: "يا عائشة، إنَّ عينيّ تنامان ولا ينام قلبي".
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عائشہ کی مرفوع حدیث ہے (بخاری 1147، مسلم 738)، وہ فرماتی ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ فرمایا: "اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا"۔
وحديث أبي هريرة عند أحمد (12/ 7417) وابن حبان (6386). وإسناده قوي.
🧩 متابعات و شواہد: اور ابو ہریرہ کی حدیث (احمد 12/ 7417، ابن حبان 6386) بھی شاہد ہے، جس کی سند "قوی" ہے۔
وفي الباب أيضًا حديث جابر عند البخاري (7281)
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں جابر کی حدیث بھی ہے (بخاری 7281)۔
وانظر حديث ابن عبَّاس عند أحمد (3/ 1911) والبخاري (138) ومسلم (763).
📝 نوٹ / توضیح: اور ابن عباس کی حدیث (احمد 3/ 1911، بخاری 138، مسلم 763) بھی دیکھیں۔