🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. الدعوة إلى الإسلام قبل القتال
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 37
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني سفيان الثَّوْري وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سَيّار (1) . وحدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا يوسف بن يعقوب؛ قالا: حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن أبيه، عن ابن عباس قال: ما قاتلَ رسولُ الله ﷺ قومًا حتى دعاهم (2) .
هذا حديث صحيح من حديث الثوري، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بأبي نَجِيح والد عبد الله واسمه يسار، وهو من الموالي المكيين، وقد رُوِيَ عن علي بن أبي طالب عن رسول الله ﷺ بهذا اللفظ (3) ، واتَّفقا جميعًا على إخراج حديث عبد الله بن عَوْن: كتبتُ إلى نافع مولى ابن عمر أسألُه عن القتال قبلَ الدعاء، فكَتَبَ إليَّ: أنَّ رسول الله ﷺ أغارَ على بني المُصطَلِق … الحديث، وفيه: وكان الدعوةُ قبل القتال (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 37 - احتج مسلم بأبي نجيح يسار المكي
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں فرمایا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (پہلے اسلام کی) دعوت نہ دے لی ہو۔
یہ امام ثوری کی روایت سے صحیح حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے ابونجیح (جو عبداللہ کے والد ہیں اور ان کا نام یسار ہے) سے احتجاج کیا ہے، وہ مکی موالی میں سے ہیں۔ اور یہی حدیث انہی الفاظ کے ساتھ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے عبداللہ بن عون کی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے کہ (وہ کہتے ہیں) میں نے ابن عمر کے مولیٰ نافع کو خط لکھا اور ان سے قتال سے پہلے دعوتِ اسلام کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر حملہ کیا... اور اس میں یہ ذکر ہے کہ قتال سے پہلے دعوت دی گئی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 37]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 37 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ب) إلى: سنان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ب) میں "سنان" تحریف ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2105) عن بشر بن السَّرِيّ، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/ 2105) نے بشر بن السری عن سفیان الثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) لم نقف عليه عن علي بهذا اللفظ، لكن أخرج الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 207، والطبراني في "الأوسط" (8265) من حديث إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن عمه أنس بن مالك: أن رسول الله ﷺ بعث عليًّا إلى قوم يقاتلهم … قال: وأمر رسول الله ﷺ عليًّا أن لا يقاتلهم حتى يدعوهم. وهو عند عبد الرزاق (9424) من حديث يحيى بن إسحاق بن أبي طلحة مرسلًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) یہ علی رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ ہمیں نہیں ملا، البتہ طحاوی اور طبرانی نے اسحاق بن عبد اللہ... عن انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کو بھیجا... اور حکم دیا کہ دعوت دینے سے پہلے قتال نہ کریں۔ عبد الرزاق کے ہاں یہ یحییٰ بن اسحاق سے "مرسلاً" مروی ہے۔
(4) هو في البخاري (2541) ومسلم (1730) بنحوه، وانظر "مسند أحمد" 8/ (4857).
📖 حوالہ / مصدر: یہ بخاری (2541) اور مسلم (1730) میں اسی طرح ہے، اور "مسند احمد" (8/ 4857) دیکھیں۔