المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
294. أحاديث النهي عن سب الدهر
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 3732
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا ابن عُيينة، قال: كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّ الدَّهر هو الذي يُهلِكُنا، هو الذي يُميتُنا ويُحيينا، فردَّ اللهُ عليهم قولَهم؛ قال الزُّهري عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"يقول الله ﷿: يُؤْذيني ابن آدمَ، يَسُبُّ (2) الدهرَ، وأنا الدهرُ، أُقلِّبُ ليلَه ونهارَه، فإذا شئتُ قبضتُهما". وتلا سفيانُ هذه الآية: ﴿مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ [الجاثية: 24] (3) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهري هذا بغير هذه السِّياقة، وهو صحيحٌ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة
سیدنا ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اہل جاہلیت کہا کرتے تھے کہ زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے، یہی ہمیں مارتا ہے اور یہی زندہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو رد فرمایا ہے۔ زہری سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: زمانے کو گالی دے کر انسان مجھے تکلیف دیتا ہے کیونکہ زمانہ تو میں ہوں، اس کے دن اور رات کو میں ہی ہی پھیرتا ہوں اور میں جب چاہوں گا ان کو ختم کر دوں گا۔ پھر سیدنا سفیان نے اس آیت کی تلاوت کی: مَا ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُھْلِکُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ (الجاثیۃ: 24) ” وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ۔“ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کی یہ حدیث نقل کی ہے تاہم اس کی سند ذرا مختلف ہے جبکہ یہ حدیث بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3732]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3732 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص) و (ع): ويسب، بزيادة الواو، وعدم إثباتها - كما في (ب) و "التلخيص" ومصادر التخريج - أوجه.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "ویسب" واؤ کے اضافے کے ساتھ ہے، جبکہ اسے نہ لکھنا (جیسا کہ نسخہ (ب)، "تلخیص" اور تخریج کے مصادر میں ہے) زیادہ راجح (اوجه) ہے۔
(3) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن إبراهيم المعروف بابن راهَويه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق سے مراد ابن ابراہیم ہیں جو ابن راہویہ کے نام سے مشہور ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (5715) عن عبد الله بن محمد الأزدي، عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد والمتن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5715) نے عبد اللہ بن محمد ازدی عن اسحاق بن ابراہیم سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه فقط أحمد 12 / (7245)، والبخاري (4826) و (7491)، ومسلم (2246) (2)، وأبو داود (5274)، والنسائي (11423) من طرق - منها إسحاق بن راهويه عند مسلم - عن سفيان بن عيينة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا صرف مرفوع حصہ احمد (12/ 7245)، بخاری (4826، 7491)، مسلم (2246)، ابو داؤد (5274) اور نسائی (11423) نے مختلف طرق سے - جن میں مسلم کے ہاں اسحاق بن راہویہ کا طریق بھی شامل ہے - سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي المرفوع منه برقم (3734) من طريق معمر عن الزهري، وسلف برقم (1540) من طريق عبد الرحمن بن يعقوب الحُرَقي عن أبي هريرة.
📝 نوٹ / توضیح: اس کا مرفوع حصہ آگے نمبر (3734) پر معمر عن زہری کے طریق سے آئے گا، اور پہلے نمبر (1540) پر عبد الرحمن بن یعقوب حرقی عن ابو ہریرہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔