🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
302. فَضِيلَةُ الِاسْتِغْفَارِ
استغفار کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3748
حَدَّثَنَا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا محمد بن المغيرة السُّكَّري، حَدَّثَنَا محمد بن القاسم الأَسَدي، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن عُبيد بن المغيرة قال: سمعتُ حُذيفةَ، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾ [محمد: 19] ، قال: كنت رجلًا ذَرِبَ اللسانِ على أهلي، فقلت: يا رسول الله، إني لأخشى أن يُدخِلَني لساني النارَ. فقال النَّبِيّ ﷺ: فأينَ أنت من الاستغفارِ؟! إني لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرةٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3706 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾ پس جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیے [سورة محمد: 19] اور فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے معاملے میں کچھ تیز زبان تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اندیشہ ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں نہ لے جائے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استغفار سے کیوں غافل ہو؟! میں تو دن میں سو سو مرتبہ اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن القاسم الأسدي، فإنه متروك، واتهمه أحمد بالكذب، وهو لم ينفرد بهذا الحديث، فقد سلف برقم (1902) من غير روايته عن سفيان الثوري، والإسناد هناك محتمل للتحسين من أجل عبيد بن المغيرة.» [ترقيم الرساله 3748] [ترقيم الشركة 3727] [ترقيم العلميه 3706]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن القاسم الأسدي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3748 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل محمد بن القاسم الأسدي، فإنه متروك، واتهمه أحمد بالكذب، وهو لم ينفرد بهذا الحديث، فقد سلف برقم (1902) من غير روايته عن سفيان الثوري، والإسناد هناك محتمل للتحسين من أجل عبيد بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ اس میں محمد بن قاسم اسدی متروک ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تاہم وہ اس حدیث میں منفرد نہیں، یہ نمبر (1902) پر سفیان ثوری کے علاوہ دوسرے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں عبید بن مغیرہ کی وجہ سے سند کے "حسن" ہونے کا احتمال ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3748 in Urdu