المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
305. توضيح معنى آية يستبدل قوما غيركم
آیت ”تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا“ کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3751
أخبرنا جعفر بن محمد الخُلْدي، حَدَّثَنَا محمد بن علي بن زيد الصائغُ، حَدَّثَنَا سعيد بن منصور، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمَّد، حَدَّثَنَا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: لما نَزَلَت ﴿وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ﴾ [محمد: 38] ، قالوا: يا رسول الله، مَن هؤلاء الذين إن تولَّينا استُبدِلوا بنا؟ وسلمانُ إلى جَنْبه، فقال:"هم الفُرْسُ، هذا وقومُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ﷽ [48 - ومن تفسير سورة الفتح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ﷽ [48 - ومن تفسير سورة الفتح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جب یہ آیت نازل ہوئی: وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ (محمد: 38) ” اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا۔“ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم منہ پھیر لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے جو قوم لائے گا وہ کون ہیں؟ اس وقت سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے (آپ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: یہ ایرانی اور اس کی قوم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3751]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3751 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن محمد الدَّراوردي وشيخه العلاء.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند عبد العزیز بن محمد دراوردی اور ان کے شیخ علاء کی وجہ سے "قوی" ہے۔
فقد أخرجه الترمذي (3260)، وابن حبان (7123)، والطحاوي في "مشكل الآثار" (2136) من طرق عن العلاء بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3260)، ابن حبان (7123) اور طحاوی "مشکل الآثار" (2136) نے علاء بن عبد الرحمن کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد روي عن أبي هريرة أيضًا في "الصحيحين" وغيرهما: أنه لما نزلت سورة الجمعة وقرأ النَّبِيّ ﷺ قوله تعالى: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ سُئل: من هؤلاء يا رسول الله؟ وكان فيهم سلمان الفارسي، فوضع النَّبِيّ ﷺ يده عليه وقال: "لو كان الإيمان عند الثُّريَّا لناله رجال من هؤلاء". وما في الصحيح أصح. وانظر تخريج طرقه في "مسند أحمد" 15/ (9406).
📖 حوالہ / مصدر: ابو ہریرہ سے صحیحین وغیرہ میں مروی ہے کہ جب سورہ جمعہ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے آیت ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ...﴾ تلاوت کی تو پوچھا گیا: یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں؟ وہاں سلمان فارسی موجود تھے، آپ ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: "اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی ہوتا تو ان لوگوں میں سے کچھ مرد اسے پا لیتے"۔ 📌 اہم نکتہ: جو صحیحین میں ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ اس کے طرق کی تخریج "مسند احمد" (15/ 9406) میں دیکھیں۔