🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
308. فَتْحُ خَيْبَرَ
فتحِ خیبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3756
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا إسحاق بن الحسن، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة، حَدَّثَنَا سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الأحوَص، عن علي: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الفتح: 4] ، قال: السَّكينة لها وجهٌ كوجه الإنسان، ثم هي بعدُ ريحٌ هفَّافةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3714 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت (اطمینان) نازل فرمائی [سورة الفتح: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سکینہ کا ایک چہرہ ہے جو انسان کے چہرے جیسا ہے، پھر اس کے بعد وہ ایک لطیف و نرم ہوا کی مانند ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح عن علي، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة - وهو موسى بن مسعود النهدي - وقد انفرد بذكر خبر علي هذا في تفسير السكينة التي في هذه الآية من سورة الفتح، وقد روى غيره الخبر دون ذكر الآية، وجعله غير واحد من المفسرين كعبد الرزاق والطبري وغيرهما ...» [ترقيم الرساله 3756] [ترقيم الشركة 3735] [ترقيم العلميه 3714]

الحكم على الحديث: خبر صحيح عن علي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3756 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر صحيح عن علي، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة - وهو موسى بن مسعود النهدي - وقد انفرد بذكر خبر علي هذا في تفسير السكينة التي في هذه الآية من سورة الفتح، وقد روى غيره الخبر دون ذكر الآية، وجعله غير واحد من المفسرين كعبد الرزاق والطبري وغيرهما في تفسير السكينة التي كانت في تابوت بني إسرائيل المذكور في الآية (248) من سورة البقرة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر سیدنا علی سے "صحیح" ہے اور یہ سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود نہدی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حذیفہ نے سورہ فتح کی آیت میں "سکینہ" کی تفسیر میں اس خبر کو ذکر کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ دوسروں نے آیت کے ذکر کے بغیر روایت کیا، اور مفسرین (عبد الرزاق، طبری) نے اسے سورہ بقرہ (248) میں تابوت والے سکینہ کی تفسیر قرار دیا ہے۔
سفيان: هو الثوري، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك بن نضلة.
📝 نوٹ / توضیح: سفیان سے مراد ثوری اور ابو الاحوص سے مراد عوف بن مالک بن نضلہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 167 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوة" (4/ 167) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 100 - 101، ومن طريق الطبري 2/ 611 عن سفيان الثوري، به. وهو عند الطبري أيضًا من طريق عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (1/ 100-101) میں اور طبری (2/ 611) نے سفیان ثوری سے روایت کیا۔ طبری کے ہاں یہ عبد الرحمن بن مہدی عن سفیان سے بھی ہے۔
وأخرجه الأزرقي في "أخبار مكة" 1/ 66، والطبري 2/ 611، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 2/ 468 من طرق عن سلمة بن كهيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ازرقی "اخبار مکہ" (1/ 66)، طبری (2/ 611) اور ابن ابی حاتم "تفسیر" (2/ 468) میں سلمہ بن کہیل کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
والريح الهفّافة: سريعة المرور في هبوبها لخفّتها.
📝 نوٹ / توضیح: "الریح الہفافہ" وہ ہوا ہے جو اپنے ہلکے پن کی وجہ سے تیزی سے گزر جائے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3756 in Urdu