المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
314. تَفْسِيرُ سُورَةِ ق — قُ جَبَلٌ مِن زُمُرُّدٍ مُحِيطٌ بِالدُّنْيَا
سورۂ ق کی تفسیر: ق ایک زمرد کا پہاڑ ہے جو دنیا کو گھیرے ہوئے ہے
حدیث نمبر: 3772
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجرُ، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرّازي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان، عن عِكْرمة، عن ابن عبَاس: أنه سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ [ق: 18] ، قال: فقال ابن عَبَّاس: إنما يُكتَب الخيرُ والشرُّ، لا يُكتَب: يا غلام أَسرِجِ الفرس، ويا غلام اسقِني الماء، إنما يُكتب الخيرُ والشرُّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3730 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3730 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس آیت ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ ”وہ جو بات بھی منہ سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار ہوتا ہے“ [سورة ق: 18] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”صرف خیر اور شر کی باتیں لکھی جاتی ہیں، یہ (معمولی باتیں) نہیں لکھی جاتیں کہ اے لڑکے گھوڑے پر زین کس دو یا اے لڑکے مجھے پانی پلا دو، بلکہ صرف وہی بات لکھی جاتی ہے جس میں نیکی یا گناہ ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3772]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس.» [ترقيم الرساله 3772] [ترقيم الشركة 3751] [ترقيم العلميه 3730]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3772 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو حاتم رازی سے مراد محمد بن ادریس ہیں۔
وأخرجه الضياء المقدسي في "المختارة" 12/ (30) من طريق ابن مردويه، عن علي بن الحسن بن علي، عن أبي حاتم الرازي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ضیاء مقدسی "المختارة" (12/ 30) میں ابن مردویہ عن علی بن حسن عن ابو حاتم رازی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا ابن أبي شيبة 13/ 575 عن يحيى بن سعيد القطان، عن هشام بن حسان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (13/ 575) نے یحییٰ قطان عن ہشام بن حسان کے واسطے سے مختصراً روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3772 in Urdu