🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
347. قَبُولُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ
مشرکین کے تحائف قبول کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3846
أخبرنا أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرني مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جدِّه قال: قَدِمَت قُتَيلة بنت العُزَّى بنت أسعد من بني مالك بن حِسْل على ابنتها أسماءَ بنت أبي بكر وكان أبو بكر طلقها في الجاهلية، فقَدِمَت على ابنتها بهدايا ضِبابًا وسَمْنًا وأَقِطًا، فأبَتْ أسماءُ أن تَقبَل منها أو تُدخلها منزلَها حتى أرسَلَت إلى عائشة: أنْ سَلِي عن هذا رسولَ الله ﷺ، فأخبرَتْه، فأمرها أن تَقبَلَ هداياها وتُدخِلَها منزلَها، فأنزل الله ﷿: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ﴾ إلى آخر الآيتين [الممتحنة: 8، 9] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3804 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسعد جو بنو مالک بن حسل سے تھیں، اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی، وہ اپنی بیٹی کے لیے ہدیے کے طور پر گوہ، گھی اور پنیر لائیں، لیکن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان سے ہدیہ قبول کرنے اور انہیں گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ہدیے قبول کریں اور انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے دیں، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ﴾ آخری دو آیات تک [الممتحنة: 8، 9]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3846]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن علي الغزّال وضعف مصعب بن ثابت.» [ترقيم الرساله 3846] [ترقيم الشركة 3825] [ترقيم العلميه 3804]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3846 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن علي الغزّال وضعف مصعب بن ثابت.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں عبد اللہ بن علی الغزال کی جہالت (نامعلوم ہونا) اور مصعب بن ثابت کا ضعف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16111) عن عارم محمد بن الفضل، عن عبد الله بن المبارك، عن مصعب بن ثابت، عن عمِّه عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند (26/16111) میں روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد نے اسے عارم محمد بن فضل سے، انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے، انہوں نے مصعب بن ثابت سے، انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔
وأصل القصة قد صحَّ من حديث أسماء نفسها قالت: أتتني أمِّي راغبةً في عهد النبي ﷺ، فسألتُ النبي ﷺ: أصِلُها؟ قال: "نعم". أخرجه البخاري (5978) ومسلم (1003)، قال سفيان بن عيينة - كما في رواية البخاري -: فأنزل الله تعالى فيها ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ … ﴾ إلى آخر الآية.
📌 اہم نکتہ: اس قصے کی اصل سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی اپنی حدیث سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میری والدہ (جو کہ مشرکہ تھیں) نبی کریم ﷺ کے عہد میں میرے پاس رغبت لے کر آئیں، میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (5978) اور مسلم (1003) نے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سفیان بن عیینہ (جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے) فرماتے ہیں کہ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ … ﴾ آخر آیت تک۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3846 in Urdu