🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
397. تفسير سورة البروج - الشاهد يوم عرفة والمشهود يوم القيامة
تفسیر سورۂ البروج — شاہد یومِ عرفہ ہے اور مشہود قیامت کا دن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حدَّثنا محمد - وهو ابن جعفر - عن شُعْبة قال: سمعتُ عليَّ بن زيد ويونسَ بن عُبيد يحدِّثان عن عمّارٍ مولى بني هاشم، عن أبي هريرة - أما عليٌّ فرَفَعَه إلى النبي ﷺ، وأما يونسُ فلم يَعْدُ أبا هريرة - في هذه الآية ﴿وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ﴾ [البروج: 3] ، قال: الشاهدُ يومُ عَرَفة ويومُ الجمعة، والمشهودُ هو الموعودُ يومَ القيامة (1) . حديثُ شعبة عن يونس بن عُبيد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3915 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ: وَ شَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ (البروج: 3) اور اس دن کی جو گواہ ہے اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: شاہد، عرفہ اور جمعہ کا دن ہے اور مشہود، قیامت کا وہ دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ٭٭ شعبہ کی یونس بن عبید کے حوالے سے روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3959]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3959 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وهذا الحديث بهذا الإسناد في "مسند أحمد" 13/ (7972)، لكن بلفظ: الشاهد يوم عرفة، واليوم الموعود يوم القيامة. وهذا أصح مما في رواية أبي بكر بن إسحاق.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ "مسند احمد" (13/7972) میں ہے، لیکن ان الفاظ کے ساتھ: "شاہد عرفہ کا دن ہے اور یوم موعود قیامت کا دن ہے"۔ اور یہ ابو بکر بن اسحاق کی روایت سے زیادہ "صحیح" ہے۔
وأصحُّ منهما ما رواه أحمد (7973) عن محمد بن جعفر، عن شعبة، عن يونس بن عبيد وحده، عن عمار مولى بني هاشم، عن أبي هريرة: أنه قال في هذه الآية: الشاهد يومُ الجمعة، والمشهود يومُ عرفة، والموعود يومُ القيامة. فبهذه الرواية مازَ أحمد لفظَ يونس بن عبيد عن لفظ علي بن زيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اور ان دونوں سے زیادہ صحیح وہ ہے جسے احمد (7973) نے محمد بن جعفر سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے اکیلے یونس بن عبید سے، انہوں نے عمار مولیٰ بنی ہاشم سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: "شاہد جمعہ کا دن ہے، مشہود عرفہ کا دن ہے اور موعود قیامت کا دن ہے"۔ اس روایت کے ذریعے امام احمد نے یونس بن عبید کے الفاظ کو علی بن زید کے الفاظ سے ممتاز کر دیا ہے۔
ومثله ما رواه موسى بن عبيدة الرَّبَذي عند الترمذي (3339) عن أيوب بن خالد، عن عبد الله بن رافع، عن أبي هريرة مرفوعًا. ورفعه لا يصح لضعف موسى بن عبيدة، ولينٍ في أيوب بن خالد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل موسیٰ بن عبیدہ ربذی نے (ترمذی 3339 میں) ایوب بن خالد سے، انہوں نے عبد اللہ بن رافع سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں کیونکہ موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں اور ایوب بن خالد میں لین (کمزوری) ہے۔
(1) إسناده من جهة يونس بن عبيد صحيح، وهو موقوف، وأما من جهة علي بن زيد - وهو ابن جُدعان - فضعيف لضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: یونس بن عبید کی جہت سے اس کی سند "صحیح" ہے اور یہ "موقوف" ہے۔ جبکہ علی بن زید (ابن جدعان) کی جہت سے ان کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔