المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
410. شأن نزول سورة ( والضحى )
سورہ والضحیٰ کے نزول کا پس منظر (شانِ نزول)
حدیث نمبر: 3991
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا الحسن بن أحمد بن اللَّيث، حدَّثنا علي بن هاشم الرازي، حدَّثنا حُميد بن عبد الرحمن الرُّؤَاسي، عن أبي الأحوَص قال: قال أبو إسحاق: يا معشر الشَّباب، اغتنموا، قلَّما تمرُّ بي ليلةٌ إِلَّا وأقرأ فيها ألفَ آية، وإني لأقرأُ البقرة في ركعة، وإني لأصُومُ أشهُرَ الحُرُم، وثلاثةَ أيام من كلِّ شهر، والاثنين والخميسَ، ثم تلا ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3947 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3947 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوالاحوص کہتے ہیں: ابواسحاق نے کہا: اے نوجوانوں! (وقت کو) غنیمت جانو، میں تقریباً ہر رات ایک ہزار آیات پڑھتا ہوں اور میں پوری سورۃ بقرہ ایک رکعت میں پڑھتا ہوں، میں حرمت والے مہینوں کے روزے رکھتا ہوں اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہوں اور ہر پیر اور جمعرات کا بھی روزہ رکھتا ہوں۔ پھر اپ نے یہ آیت تلاوت کی: وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3991]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3991 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الأحوص: هو سلّام بن سُليم، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو الاحوص سے مراد "سلام بن سلیم" اور ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6613) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (6613) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "الجعديات" (404) من طريق زهير بن حرب، عن حميد بن عبد الرحمن، به. وانظر "الزهد" لأحمد (2136) و "حلية الأولياء" لأبي نعيم 4/ 339.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم بغوی نے "الجعدیات" (404) میں زہیر بن حرب کے طریق سے، انہوں نے حمید بن عبد الرحمن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ نیز احمد کی "الزہد" (2136) اور ابو نعیم کی "حلیۃ الاولیاء" (4/339) دیکھیں۔