🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. جمع لنوح علم الماضين كلهم
سیدنا نوح علیہ السلام میں پہلے سب لوگوں کا علم جمع کر دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4055
أخبرني أبو سعيد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا الحسين بن علي السُّلَمي، حدثنا محمد بن حسان، حدثنا محمد بن جعفر، عن أبيه، عن جده، عن علي، قال: جَمَع ربُّنا ﷿ لِنوح علم الماضين كلِّهم، وأيّده بروح منه، فدعا قومه سرًا وعلانية تسع مئة (1) وخمسين سنة، كلَّما مضى قَرْنٌ أَتبَعَه قرنٌ، فزادهم كُفرًا وطغيانًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4011 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو گزشتہ تمام لوگوں کا علم عطا فرمایا اور اپنی روح کے ساتھ ان کی تائید فرمائی۔ انہوں نے اپنی قوم کو ظاہر اور پوشیدہ طور پر 950 سال تک دین کی دعوت دی۔ جب بھی ایک زمانہ گزر جاتا اور دوسرے زمانے کے لوگ آتے تو ان کی سرکشی اور بغاوت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4055]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4055 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ص) و (ع): مئة، بدل: تسع مئة. وهذا خطأ صريح، مخالف لنص الآية، والتصويب من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "نو سو" کی بجائے "سو" ہے، جو کہ صریح "غلطی" ہے اور نص قرآنی کے خلاف ہے۔ درستگی (ب) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف بمرَّةٍ لجهالة الحسين بن علي السلمي ومحمد بن حسان: وهو السُّلمي، لأنَّ الحسين صرّح في بعض طرقه بأنه عمه، ومحمد بن جعفر - وهو ابن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب - تُكلِّم فيه كما قال الذهبي في "الميزان"، ومحمد بن علي روايته عن جده علي بن أبي طالب مرسلة كما قال أبو زرعة الرازي وغيره، والحسين بن حميد ليس بالمتين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "بالکل ضعیف" ہے۔ حسین بن علی سلمی اور محمد بن حسان (السلمی) کی جہالت کی وجہ سے (کیونکہ حسین نے بعض طرق میں تصریح کی ہے کہ وہ ان کا چچا ہے)۔ محمد بن جعفر (ابن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب) کے بارے میں کلام کیا گیا ہے جیسا کہ ذہبی نے "المیزان" میں کہا۔ محمد بن علی کی اپنے دادا علی بن ابی طالب سے روایت "مرسل" ہے جیسا کہ ابو زرعہ رازی وغیرہ نے کہا۔ اور حسین بن حمید (حدیث میں) مضبوط نہیں ہیں۔