🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه
جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 408
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو صالح، حدثني الليث، حدثني يحيى بن سعيد قال: كَتَبَ إليَّ خالدُ بن أبي عِمران قال: حدثني نافع، عن عبد الله بن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"من خَرَجَ من الجماعةِ قِيدَ شِبْرٍ، فقد خَلَعَ رِبْقةَ الإسلام من عُنقِه حتى يُراجِعَه"، وقال:"من مات وليس عليه إمامُ جماعةٍ، فإِنَّ مَوْتتَه مَوتةٌ جاهليَّة" (2) . الحديث الرابع فيما يدلُّ على أنَّ إجماع العلماء حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 403 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جماعت سے ایک بالشت برابر بھی باہر نکلا، اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا جب تک کہ وہ رجوع نہ کر لے، اور فرمایا: جو اس حال میں مرا کہ اس پر جماعت کا کوئی امام نہ تھا، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
یہ متن شیخین کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 408]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، أبو صالح - وهو عبد الله بن صالح كاتب الليث - حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وهذا الحديث منها، وقد سلف عند المصنف برقم (261). ¤ ¤ ويشهد له ما في الحديثين السابق واللاحق.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے راوی ابو صالح (عبد اللہ بن صالح، کاتبِ لیث) متابعات اور شواہد میں "حسن الحدیث" قرار پاتے ہیں اور یہ حدیث بھی انہی میں سے ہے، نیز یہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (261) پر گزر چکی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید اس سے پچھلی اور اگلی دونوں احادیث سے ہوتی ہے۔