المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. لم يبعث نبي قط بعد لوط إلا فى ثروة من قومه
سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسی قوم میں نہیں بھیجا گیا جو مال و دولت میں کمزور ہو
حدیث نمبر: 4100
أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القنَّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، قال: انطلق لوطٌ ونَزَل على أهل سَدُوم، فوجدَهم يَنكِحُون الرجال، فنزل فيهم فبعثه الله إليهم، فدعاهم ووَعَظَهم، وكان من خبرهم ما قَصَّ الله في كتابه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4056 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4056 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سدی بیان کرتے ہیں: سیدنا لوط علیہ السلام چلے اور اہل سدوم کے پاس آ کر ٹھہرے، آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ مرد، مردوں کے ساتھ نکاح کرتے تھے۔ آپ وہیں قیام پذیر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہی کا نبی بنا دیا۔ آپ نے ان کو دعوت دی اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کی خبر میں سے وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قصہ بیان فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4100]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4100 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) رجاله لا بأس بهم. أسباط: هو ابن نصر، والسُّدِّي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسباط سے مراد "ابن نصر"، اور سدی سے مراد "اسماعیل بن عبدالرحمن" ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (4103).
📝 نوٹ / توضیح: آگے نمبر (4103) پر آنے والا حصہ دیکھیں۔