🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. قصة هلاك قوم عاد
قومِ عاد کی ہلاکت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4107
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، قال: وسُئل وهب بن مُنبِّه عن هود: أكان أبَ اليمن الذي وَلَدَ لهم؟ فقال وهبٌ: لا ولكنه أخو اليمن، وفي التوراة يُنسب إلى نوح، فلما كانت العصبية بين العرب وفَخَرَت مُضَرُ بأبيها إسماعيل، ادعت اليمن هودًا أبًا ليكون والدًا من الأنبياء وولاده فيهم، وليس بأبيهم ولكنه أخوهم، وإنما بُعِث إلى عادٍ، وكان وهبٌ لا يُسمي عادَ قَدْحًا لهم (1) ، ولا ينسب قبائلهم، ولا يأثر أشعارهم، ولم يكن في الأرض أُمّةٌ كانوا أكثر منهم عددًا، ولا أعظم منهم أجسامًا، ولا أشد منهم بطشًا، فلما رأوا الريح قد أقبلت عليهم، قالوا لهُودٍ: تُخوِّفنا بالريح، فجمعُوا ذَراريهم وأموالهم ودوابهم في شِعْبٍ، ثم قاموا على باب ذلك الشِّعب يَردُّون الريح عن أموالهم وأهليهم، فدخلتِ الريحُ من تحت أرجُلِهم بينهم وبين الأرض حتى قلعتهم. قال وهب: ولما بعث الله إليهم هودَ بن عبد الله بن رباح بن الحارث بن عاد بن عُوص بن إرَم بن سام بن نوح كان كلّ رمل وضعه الله بشيء من البلاد كان مساكن عادٍ في رمالها، وكانت بلاد عادٍ أخصب بلاد العرب، وأكثرها ريفًا وأنهارًا وجنانًا، فلما غَضِب الله عليهم وعَتَوا على الله، وكانوا أصحاب أوثان يعبدونها من دون الله، أرسل الله عليهم الريح العقيم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4063 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ سیدنا ھود علیہ السلام یمن کے والد تھے؟ تو سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ بلکہ وہ یمن کے بھائی تھے اور تورات میں ان کا نسب سیدنا نوح علیہ السلام کی طرف کیا گیا ہے اور چونکہ اہل عرب میں تعصب پایا جاتا تھا اور مضر اپنے باپ سیدنا اسماعیل علیہ السلام پر فخر کیا کرتے تھے تو انہوں نے یمن کے سیدنا ھود علیہ السلام کے باپ ہونے کا دعویٰ کر دیا تاکہ وہ انبیاء کی اولاد میں ثابت ہوں اور ان کی اولاد ان میں ثابت ہو۔ حالانکہ سیدنا ھود علیہ السلام یمن کے والد نہیں ہیں بلکہ ان کے بھائی ہیں اور سیدنا ھود علیہ السلام کو عاد کی طرف مبعوث فرمایا۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ، عاد کا نام نہیں بیان کرتے تھے اور نہ ان کے قبائل کا نسب بیان کرتے تھے اور نہ ان کے اشعار کا حکم دیتے تھے حالانکہ زمین پر ان سے زیادہ کثرت والی ان کے سوا کوئی امت نہیں۔ اور نہ ہی ان سے زیادہ مضبوط جسم والی کوئی امت تھی۔ اور نہ ان سے زیادہ مضبوط پکڑ والی کوئی امت ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ آندھی ان کی جانب آ رہی ہے تو انہوں نے سیدنا ھود علیہ السلام سے کہا: تو ہمیں آندھی سے ڈراتا ہے؟ تو انہوں نے اپنے بچوں، جانوروں اور اپنے مالوں کو ایک غار میں جمع کر لیا اور اس غار کے منہ پر کھڑے ہو کر آندھی کو اپنے مالوں اور بچوں سے روکنے لگے تو آندھی ان کے قدموں کی جانب سے اندر داخل ہوئی اور ان کو تباہ کر دیا۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب ھود بن عبداللہ بن رباح بن الحارث بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو تمام شہروں کے ٹیلوں میں قوم عاد کی رہائشیں تھیں اور عاد کے علاقے تمام بلاد عرب میں سے سب سے زیادہ سرسبز و شاداب تھے اور وہاں پر سبزہ، نہریں اور باغات بکثرت تھے۔ جب اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے بتوں کی عبادت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خشک آندھی بھیجی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4107]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4107 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في (ز) و (ب) وفي (ص) و (ع): عاد ورجالهم.
📝 نوٹ / توضیح (متن): نسخہ (ز) اور (ب) میں ایسا ہی ہے، جبکہ (ص) اور (ع) میں الفاظ ہیں: "عاد اور ان کے مرد"۔
(2) إسناده واهٍ من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك، وكذبه أحمد. وأخرجه مختصرًا ابن عساكر في "معجمه" (1100) من طريق أبي جعفر عبد الله بن إسماعيل المعروف بابن بُرَيه الهاشمي، عن محمد بن أحمد بن البراء، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبدالمنعم بن ادریس" ہے، جو کہ "متروک الحدیث" ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے اپنے "معجم" (1100) میں مختصراً ابو جعفر عبداللہ بن اسماعیل (المعروف ابن بریہ الہاشمی) کے طریق سے، انہوں نے محمد بن احمد بن البراء سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الطبري في "تاريخه" 1/ 226 من طريق عبد الصمد بن معقل، عن وهب بن مُنبِّه، قال: إِنَّ عادًا لما عذبهم الله بالريح التي عُذِّبوا بها كانت تقلع الشجرة العظيمة بعروقها وتهدم عليهم بيوتهم، فمن لم يكن له بيت هبَّت به الريح حتى تقطعه بالجبال، فهلكوا بذلك كلهم. وسنده حسن إلى وهب.
📖 حوالہ / مصدر: طبری نے اپنی "تاریخ" 1/ 226 میں عبدالصمد بن معقل کے طریق سے، انہوں نے وہب بن منبہ سے روایت کیا کہ: "جب اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو اس ہوا کے ذریعے عذاب دیا جس سے وہ عذاب دیے گئے، تو وہ (ہوا) بڑے بڑے درختوں کو ان کی جڑوں سمیت اکھاڑ دیتی تھی اور ان کے گھر ان پر گرا دیتی تھی۔ اور جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا تھا، ہوا اسے اڑا لے جاتی یہاں تک کہ اسے پہاڑوں سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی، پس وہ سب اسی طرح ہلاک ہو گئے۔" ⚖️ درجۂ حدیث: وہب تک اس کی سند "حسن" ہے۔