المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. ذكر صالح النبى - صلى الله عليه وسلم -
حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر — حضرت صالح علیہ السلام کا نسب
حدیث نمبر: 4109
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا وكيع، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن نَوف الشامي: أنَّ صالح النبي ﷺ من العرب، لما أهلك الله عادًا، وانقضى أمرُها عُمِّرت ثَمُودُ بعدها فاستُخلفوا في الأرض، فانتشروا، ثم عَتَوا على الله، فلما ظهر فسادهم وعبَدُوا غير الله، بعث الله إليهم صالحًا - وكانوا قومًا عربًا وهو من أوسطهم نسبًا وأفضلهم موضعًا - رسولًا، وكانت منازلهم الحِجْرَ إلى قُرْحٍ (2) وهو وادي القُرى، ثمانية عشر ميلًا فيما بين الحِجر إلى الحِجاز، فبعثه الله إليهم غلامًا شابًا، فدعاهم إلى الله حتى شَمِط وكَبِر، ولا يتبعه منهم إلا قليلٌ مُستضعَفُون، فهلكت عاد وثمود ومن كان منهم من تلك الأمم، وكانوا من ولد لاوَذَ بن سام بن نوح، ولم يكن بين نوح وإبراهيم نبيٌّ قبله - يعني قبل إبراهيم - إلا هود وصالح وإبراهيم ﵈ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4065 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4065 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نوف شامی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا صالح علیہ السلام عرب سے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کر دیا اور ان کا قصہ تمام ہو گیا تو ان کے بعد قوم ثمود کو آباد کیا گیا، یہ لوگ زمین میں بسنے لگے اور (دور دور تک) پھیل گئے۔ پھر انہوں نے بھی سرکشی کی۔ جب ان کا فساد بڑھ گیا اور یہ لوگ غیر خدا کی عبادت کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سیدنا صالح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ یہ قوم عرب تھی جبکہ سیدنا صالح علیہ السلام ان میں متوسط خاندان سے تعلق رکھتے تھے جبکہ سب سے اعلیٰ مقام پر رہتے تھے، ان کی آبادی حجر سے قرع کی طرف تھی اور قرع وہ وادی القریٰ ہے جو حجر سے حجاز تک اٹھارہ میل تک پھیلی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب ایک نوجوان لڑکے کو مبعوث فرمایا۔ وہ اپنے بال سفید ہونے تک ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا رہا لیکن سوائے ایک چھوٹی سی ضعیف جماعت کے اور کوئی بھی اس پر ایمان نہ لایا۔ تو قوم ثمود اور عاد اور دیگر امتیں جو انہیں سے تعلق رکھتی تھیں سب کو ہلاک کر دیا گیا اور یہ لوگ لاوذ بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے اور نوح علیہ السلام کے بعد سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے صرف ھود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام ہی نبی ہوئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4109]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4109 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرفت في النسخ الخطية إلى: قرع، بالعين المهملة في آخرها، وإنما هي بالحاء المهملة، وهي بضم القاف وسكون الراء.
📝 نوٹ / توضیح (لغت و متن): قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "قرع" (عین مہملہ کے ساتھ) ہو گیا تھا۔ درست لفظ "قُرْح" (حائے مہملہ کے ساتھ) ہے، جو قاف کے پیش (ضمہ) اور راء کے سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
(3) رجاله ثقات. نوف الشامي: هو نَوف بن فَضَالة البِكَالي ابن امرأة كعب الأحبار. وقد روى مثل هذا محمد بن إسحاق فيما أخرجه عنه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1512 و 6/ 1837 و 8/ 2695، وابنُ جَرير الطبري في "تفسيره" 8/ 225 - 226، وهو عند ابن أبي الدنيا أيضًا في "العقوبات" (147) مختصرًا.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ نوف الشامی سے مراد "نوف بن فضالہ البکالی" ہیں جو کعب الاحبار کی اہلیہ کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) تھے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت محمد بن اسحاق نے بھی بیان کی ہے جسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (متعدد مقامات پر) اور طبری نے اپنی "تفسیر" 8/ 225-226 میں روایت کیا ہے۔ نیز یہ ابن ابی الدنیا کی "العقوبات" (147) میں بھی مختصراً موجود ہے۔