🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. ذكر ولادة يعقوب - عليه السلام -
حضرت یعقوب علیہ السلام کی ولادت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4125
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الغَسِيلي، حدثنا الحسين بن عمرو بن محمد العَنْقَزِي، حدثنا أبي، حدثنا أسباط، عن السُّدِّي قال: تزوج إسحاق بن إبراهيم الخليل امرأةً، فحملت بغلامين في بطن، فلما أرادت أن تَضَعَ اقتَتَل الغلامان في بطنها، فأراد يعقوب أن يَخرُج قبل عيصا، فقال عيصا: والله إن خرجت قبلي لأعترضَنَّ في بطن أمي فلأقتُلَنّها، فتأخر يعقوب وخرج عيصا قبله، وأخذ يعقوبُ بعَقِبِ عيصا فخرج، فسُمِّي عيصا لأنه عَصَى فخرج قبل يعقوب، وسُمّي يعقوبَ لأنه خرج آخِذًا بعقِبِ عيصا، وكان أكبرهما في البطن، ولكنه عصى وخرج قبله، وكَبِرَ الغلامان، وكان عيصا أحبّهما إلى أبيه، وكان يعقوب أحبَّهما إلى أُمِّه، وكان عيصا صاحبَ صَيدٍ، فلما كَبِرَ إسحاقُ عَمِي؛ وذكر حديثًا طويلًا (1) . [ذكر يوسف بن يعقوب صلوات الله عليهما]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4081 - سنده واه
سدی کہتے ہیں: سیدنا اسحاق بن ابراہیم الخلیل علیہم السلام نے ایک خاتون سے نکاح کیا تو وہ حاملہ ہوئی اور اس حمل میں دو بچے تھے۔ جب پیدائش کا وقت قریب ہوا تو دونوں بچے ماں کے پیٹ ہی میں ایک دوسرے سے جھگڑ پڑے۔ یعقوب علیہ السلام نے عیص سے پہلے نکلنا چاہا تو عیص نے کہا: خدا کی قسم! اگر تو مجھ سے پہلے نکلا تو میں ماں کے پیٹ میں سرکشی کروں گا اور اسے مار دوں گا۔ تو سیدنا یعقوب علیہ السلام ٹھہر گئے اور عیص آپ سے پہلے نکل آیا اور یعقوب علیہ السلام نے عیص کی ایڑھی پکڑ لی اور اس کے بعد باہر آئے۔ تو عیص کا نام اسی لئے عیص رکھا گیا کہ اس نے نافرمانی کی تھی اور یعقوب علیہ السلام کا نام یعقوب علیہ السلام اسی لئے رکھا گیا کہ یہ عیص کی ایڑھی (جس کو عربی میں عقب کہتے ہیں) پکڑے ہوئے باہر آئے تھے۔ یعقوب پیٹ میں عیص سے بڑے تھے جبکہ عیص نافرمانی کر کے ان سے پہلے نکل آیا اس طرح دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑے ہیں۔ عیص کے ساتھ ان کے والد بہت محبت کرتے تھے جبکہ یعقوب علیہ السلام اپنی ماں کا لاڈلا تھا اور عیص شکاری تھا جب سیدنا اسحاق علیہ السلام بوڑھے ہوئے تو ان کی بینائی زائل ہو گئی پھر اس کے بعد طویل حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4125]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4125 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واه كما قال الذهبي في "تلخيصه" وذلك من أجل إبراهيم بن إسحاق الغسيلي، فقد قال عنه ابن حبان: يقلب الأخبار ويسرق الحديث، وقال الخطيب البغدادي: غير ثقة، والحسين بن عمرو العَنْقَزي قال عنه أبو زرعة: كان لا يصدق، وقال أبو حاتم: لين يتكلمون فيه، وقال أبو كريب: حدّث عن إبراهيم بن يوسف السبيعي، وقد مات إبراهيم قبل أن يُولد، وقال أبو داود: كتبتُ عنه ولا أُحدِّث عنه، وقال ابن الجوزي في "المنتظم" 1/ 307: مثل هذا قبيحٌ أن يُذكر، لأنَّ يعقوب اسم أعجمي ليس بمشتقّ من العقب، ولا عيصا من المعصية، وإثبات خُصومةٍ بين حملين من أبعد الأشياء.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "ابراہیم بن اسحاق الغسیلی" ہے؛ ابن حبان کہتے ہیں: وہ خبروں کو الٹ پلٹ دیتا ہے اور حدیث چوری کرتا ہے۔ خطیب نے کہا: غیر ثقہ ہے۔ دوسرا راوی "حسین بن عمرو العنقزی" ہے؛ ابو زرعہ نے کہا: وہ سچ نہیں بولتا تھا۔ ابو حاتم نے کہا: لین (کمزور) ہے، اس پر کلام کیا گیا ہے۔ ابو کریب نے کہا: اس نے ابراہیم بن یوسف السبیعی سے روایت کی ہے حالانکہ ابراہیم اس کی پیدائش سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔ 📌 قول ابن الجوزی (لغوی تحقیق): ابن الجوزی نے "المنتظم" 1/ 307 میں کہا: ایسی بات ذکر کرنا بھی قبیح ہے، کیونکہ "یعقوب" عجمی نام ہے جو "عقِب" (ایڑی/پیچھے آنے والا) سے مشتق نہیں، اور نہ ہی "عیصا"، "معصیت" (نافرمانی) سے مشتق ہے۔ اور شکمِ مادر میں دو بچوں کے درمیان جھگڑا ثابت کرنا بعید ترین بات ہے۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 319 عن الحسين بن عمرو العنقزي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ" 1/ 319 میں حسین بن عمرو العنقزی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔