المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. ذكر النبى الكليم موسى بن عمران وأخيه هارون بن عمران
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر — حضرت خضر کے ساتھ والے موسیٰ کے بارے میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 4138
فحدَّثَنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بِهَمَذَان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا عبد الله بن داهِر بن يحيى الرازي، حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عَبَاية الأسدي، قال: سمعتُ عبد الله بن عبّاس يقول: إنَّ الله يقول في كتابه لموسى بن عِمران: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾، قال: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ [الأعراف: 144 - 145] ، فكان موسى يَرى أنَّ جميع الأشياء قد أُثبتت له، كما ترون أنتم أن علماءكم قد أثبتُوا لكم كلَّ شيءٍ، وكما يُثبِتُوه، فلما انتهى موسى إلى ساحِلِ البحر لقي العالِمَ فاستَنْطَقه فأقرَّ له بفَضْل علمه ولم يَحسُده، فقال له موسى ورَغِبَ إليه: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ فعَلِمَ العالِمُ أنَّ موسى لا يُطيق صحبتَه، ولا يصبر على عِلْمِه، فقال له العالِمُ: إنك لا تَستطيعُ معي صَبْرًا، ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ [الكهف: 68] ؟! فقال له موسى وهو يعتذر: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾، فعَلِم أنَّ موسى لا يَصبِرُ على عِلْمِه، فقال له: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ فرَكِبا في السفينة فخَرَقَها العالِمُ، وكان خَرْقُها لله رِضًا ولموسى سُخْطًا، ولَقِيَ الغلامَ فقتَلَه، وكان قتلُه لله رِضًا؛ ثم ذَكَر بعضَ القصةِ والكلام، ولم يُجاوِزِ ابنَ عبّاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کے متعلق فرماتا ہے: اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلٰمِیْ فَخُذْ مَآ ٰاتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (الاعراف: 144,145) ” اے موسیٰ! میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو، اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ تمام چیزیں انہیں کے لئے ثابت ہیں۔ جیسا کہ تم لوگ دیکھتے ہو کہ تمہارے علماء تمہارے لئے تمام چیزیں ثابت کرتے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام ساحل سمندر پر پہنچے تو عالم سے ملے اور اس سے گفت و شنید کی اور اس کے علم و فضل کا اقرار کیا اور حسد نہ کیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف دلچسپی سے درخواست کی: کیا میں تمہارے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو گے جو تمہیں تعلیم ہوئیں؟ وہ عالم سمجھتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی سنگت میں نہیں رہ سکتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے تو اس عالم نے ان سے کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے کہا: عنقریب اللہ تعالیٰ چاہے تو تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی صحبت میں رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس عالم نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں۔ پھر یہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو اس عالم نے اس کشتی کو چیر ڈالا۔ ان کا کشتی کو چیرنے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے امتحان کے لئے تھا۔ پھر یہ ایک بچے سے ملے تو اس کو قتل کر ڈالا اور اس بچے کو قتل کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی تھا پھر اس کے بعد مکمل قصہ اور گفتگو نقل کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے تجاوز نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4138]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4138 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن داهر وأبيه فهما ليسا بشيء، ولهما ترجمة في "الميزان" و"اللسان"، وتَعقَّب الذهبيُّ في "تلخيصه" المصنف في تصحيحه هذا الخبر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف عبد اللہ بن داہر اور اس کے والد کی وجہ سے ہے، یہ دونوں "لیس بشیء" (کچھ حیثیت نہیں رکھتے) ہیں۔ ان کا تذکرہ "المیزان" اور "اللسان" میں موجود ہے۔ اور امام ذہبی نے "التلخیص" میں مصنف (حاکم) کے اس خبر کو صحیح قرار دینے پر تعاقب (گرفت) کیا ہے۔